ہماری 11سو کلو میٹر کی سمندری پٹی جنوب مشرقی ایشیاءکو مشرق وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، علی زیدی

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ ہماری 11سو کلو میٹر کی سمندری پٹی جنوب مشرقی ایشیاءکو مشرق وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے مغربی و وسطی یورپی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران گفتگو رکرتے ہوئے کیا ۔ انٹر نیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے انتخابات میں پاکستانی امید …

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ ہماری 11سو کلو میٹر کی سمندری پٹی جنوب مشرقی ایشیاءکو مشرق وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے مغربی و وسطی یورپی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران گفتگو رکرتے ہوئے کیا ۔ انٹر نیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے انتخابات میں پاکستانی امید وار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف ممالک کے سفیروں کے ساتھ وزارت بحری امور کا چوتھا سیشن منعقد ہوا جس میں مغربی اور وسطی یورپی ممالک کے سفیروں کو وزارت کی دو سالہ کارکردگی اور بلیو اکانومی اقدامات کے بارے آگاہ کیا گیا۔ ان اجلاسوں میںآسٹریا ، کینیڈا ، ڈنمارک ، یونان ، اٹلی ، ناروے ، اسپین ، سوئٹزرلینڈ ، ترکی، جرمنی اور برطانیہ کے سفیروں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمندری وسائل کی دولت سے مالامال ہے۔ ہماری 1100 کلومیٹر ساحلی پٹی وسطی ، جنوب مشرقی ، مشرقی ایشیاءکو توانائی سے مالا مال مشرق وسطیٰ ، یورپ اور افریقہ کی منڈیوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ساحلی سیاحت ، رئیل اسٹیٹ کی ترقی ، سمندری غذا کی برآمدات اور سمندری تجارت نہ صرف پاکستان کی معاشی حالت کو یکساں طور پر بدل دے گی بلکہ اس کا فائدہ یورپی ممالک کو وسطی ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک رسائی سے ہوگا۔ انہوں نے بندرگاہوں کی صنعتوں کے لئے ضروری انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ شہروں کو ترقی دینے اور اس سے ملحقہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی مثال بھی نقل کی جس نے مختلف ممالک کو تجارت اور مینوفیکچرنگ حب میں تبدیل کردیا ہے۔ نیویارک بندرگاہ اتھارٹی کی مثال دیتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ کراچی کو ترقی دینے اور انفراسٹرکچر کے ساتھ کراچی کو مزید منسلک کرکے پورٹ سٹی میں تبدیل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا جس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ موجودہ صنعتوں کو بھی سپلائی چین قائم کرنے میں آسانی ہوگی جو کہ پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔وفاقی وزیر نے نئی شپنگ پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی ، بشمول ایسی بزنس فرینڈلی پالیسیاں جو کہ بیرونی سرمایہ کاری لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور نجی جہاز رانی کی صنعت کو جنم دیں گی جس میں حکومت صرف ایک ریگولیٹر کا کردار ادا کرے گی اور سالانہ فریٹ بل پر قیمتی زرمبادلہ کے خرچ ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی۔ سید علی حیدر زیدی نے سفیروں کوآئی ایم او انتخابات کیلئے پاکستان کے امید وار کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ ایک ہفتہ کے عرصہ میں وزارت بحری امور نے اس طرح کے چار اجلاس منعقد کیے جس کے تحت وزارت کے اقدامات کی مختلف ممالک کی نمائندگی کرنے والے سفیروں نے تعریف کی۔

مزید خبریں