کورونا وبا کی پہلی لہر کے دوران جس ڈسپلن کا مظاہرہ کیا گیااب اسی جذبہ کے تحت ایس او پیز پر عملدرآمدکی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی پہلی لہر کے دوران جس طرح ہم نے ڈسپلن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اب موجودہ صورتحال میں بھی اسی جذبہ کے تحت ایس او پیز پر عملدرآمدکی ضرورت ہے، کورونا وبا کے باوجود ملک کے معاشی اشاریے مثبت راہ پر گامزن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایوان صدر …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی پہلی لہر کے دوران جس طرح ہم نے ڈسپلن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اب موجودہ صورتحال میں بھی اسی جذبہ کے تحت ایس او پیز پر عملدرآمدکی ضرورت ہے، کورونا وبا کے باوجود ملک کے معاشی اشاریے مثبت راہ پر گامزن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایوان صدر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ گرین انیشیٹیو کے تحت یہ اقدام کیا جا رہا ہے، صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد صاف و سرسبز ملک کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں جس میں شجرکاری، کنزرویشن، اخراجات میں کمی، سی ایس آر کے سلسلہ میں تعاون شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں، قومی خزانہ پر بوجھ ڈالنے کی بجائے سی ایس آر کے تحت اخراجات پر توجہ مرکوز کی ہے، بجلی کے نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی محنت کی کمائی کا ایک ایک پیسہ استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، پہلے تیل کے وسائل پر زیادہ انحصار تھا تاہم اب دنیا متبادل ذرائع کی جانب جا رہی ہے، جنگلی حیات کو خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کورونا وبا کا شکار ہے، اس میں اﷲ تعالیٰ کی دنیا والوں کیلئے نشانیاں ہیں، ہمیں دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے، کورونا وبا کے دوران مخیر حضرات نے دل کھول کر غریبوں کی مدد کی اور کسی کو بھوکا نہیں رہنے دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کی دیکھ بھال کی، ہم نے مساجد میں عبادت کی اور معافی مانگی جبکہ نادار طبقات کی مدد بھی کی، اﷲ کی رحمت کے باعث ہم نے کورونا کی پہلی لہر پر قابو پایا، پاکستان سمیت دنیا بھر کو اب بھی کورونا کی دوسری لہر کا سامنا ہے، کورونا وبا سے بچنے کیلئے تین احتیاطیں ماسک لگانا، بار بار ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلہ اختیار کرنا ہے، ان تینوں میں سے ایک کی بھی بداحتیاطی کی وجہ سے کوئی موت کا شکار ہو سکتا ہے، اگر ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں گے تو ان ایس او پیز پر عملدرآمد میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معاملہ پر علماءکرام کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا، انہوں نے کورونا وبا کے ایس او پیز پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا، دنیا کے مقابلہ میں پاکستان میں ایس او پیز پر زیادہ عملدرآمد کیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قوم بدل رہی ہے اور ڈسپلن پر عمل کرکے تبدیلی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آر میں احساس کی کیفیت پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج ماحول صاف رکھنا اور کل ماحول خراب نہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 کے دوران مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، دولت کی تقسیم کے حوالہ سے اسلامی اقدار کے علاوہ کوئی منطق نہیں چلے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کی ٹریل روکنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دکھاوے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ احساس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تاہم پاکستان میں نچلی سطح پر بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود ملک میں تعمیراتی شعبہ ترقی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ میکرو اکنامک اشاریے مثبت راہ پر گامزن ہیں، آج جتنے کیسز سامنے آئے جون میں بھی یہی کیفیت تھی، ہمیں اﷲ سے توبہ اور دعا کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں استحصال کیا جاتا ہے وہ ترقی نہیں کرتے اور جہاں احساس میں لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے وہ ترقی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری سماجی ذمہ داری آج کا نہیں 1400 سال پہلے کی سوچ ہے جس کی مثالیں اسلامی تاریخ میں ملتی ہیں۔