ذوالفقار بخاری کا لندن سکول آف اکنامکس میں پاکستانی طلباءکی تنظیم فیوچر آف پاکستان کانفرنس سے آن لائن خطاب

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ وہ بل لائیں گے جس میں دوہری شہریت کے حامل پاکستانی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، ماضی میں اوورسیز پاکستانیوں کو نظر انداز کیا جاتا تھا، اب میرے سمیت گورنر اسٹیٹ بینک ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اوورسیز ہیں جو سسٹم کا حصہ ہیں۔ لندن سکول آف اکنامکس میں پاکستان …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ وہ بل لائیں گے جس میں دوہری شہریت کے حامل پاکستانی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، ماضی میں اوورسیز پاکستانیوں کو نظر انداز کیا جاتا تھا، اب میرے سمیت گورنر اسٹیٹ بینک ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اوورسیز ہیں جو سسٹم کا حصہ ہیں۔ لندن سکول آف اکنامکس میں پاکستان طلباءکی تنظیم فیوچر آف پاکستان کانفرنس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہر سال 22ارب ڈالر ز سے زائد کی ترسیلات زر پاکستان بھجواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہر کوارٹر میں ترسیلات زر میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ ترسیلات زر میں اضافہ اس حکومت پر اوورسیز پاکستانیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ،اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری و دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس لاﺅنچ کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے جارہے ہیں، اوورسیز پاکستانی اب نظام کا حصہ بن رہے ہیں جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں خود شامل ہوں۔ اس کے علاوہ گورنراسٹیٹ بینک اور ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اوورسیز پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو وہ اہمیت نہ دی جو دینی چاہیے تھی۔ ہم اوورسیز پاکستانیوں سے پیسے تو منگواتے ہیں لیکن جب انہیں سسٹم میں شامل کرنے کی بات کی جاتی تو انکار کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ اوورسیز پاکستانیوں کو مختلف بورڈز میں شامل کیا ہے، میں جلد بل موو کروں گا کہ دوہری شہریت کے حامل پاکستانی انتخابات میں حصہ لے سکیں ۔ ملک میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاحت کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں کو لانے کیلئے انفراسٹرکچر چاہئے ہوتا ہے، سیاحت کا معاملہ صوبوں کو منتقل ہوگیا تھا لیکن اب اس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چترال میں فائیوسٹار ہوٹل تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ اگلے 24 ماہ میں پاکستان میں 25کے قریب تھری اور فور سٹار ہوٹلز بن جائیں گے۔