لاہور۔15دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب زندہ دل لوگوں کی سرزمین ہے اور اس نے ہمیشہ آنے والوں کو خوش آمدید کہا ہے۔پی ڈی ایم قیادت کی جانب سے پنجاب پر انگریزوں اور دیگر حملہ آوروں کا ساتھ دینے کا الزام لگانے والے حقیقت سے نابلد ہیں اور صوبائیت کو ہوا دے رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے …
صوبائی وزیرہائیرایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفرازکی پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور۔15دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب زندہ دل لوگوں کی سرزمین ہے اور اس نے ہمیشہ آنے والوں کو خوش آمدید کہا ہے۔پی ڈی ایم قیادت کی جانب سے پنجاب پر انگریزوں اور دیگر حملہ آوروں کا ساتھ دینے کا الزام لگانے والے حقیقت سے نابلد ہیں اور صوبائیت کو ہوا دے رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے اور یہ کسی بھی قسم کی سازش کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس خطے کے لوگوں کے دلوں میں ایک خاص محبت اور چاہت پیدا کی ہے،جو کوئی بھی پنجاب میں آتا ہے پنجابی بن کر رہ جاتا ہے۔ یہاں راجپوت، پٹھان، آرائیں، جاٹ، کشمیری اور دیگر تمام قومیں آباد ہیں اور سب پنجابی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کسی بھی قسم کی علاقائیت اور ذات پات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔صوبائی وزیرراجہ یاسرہمایوں نے پی ڈی ایم رہنمائوں کی جانب سے لاہور جلسے میں پنجاب کے لوگوں پر انگریزوں اور دیگر حملہ آوروں کی سپورٹ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام باشعور اور غیرت مند ہیں۔پی ڈی ایم جلسے میں محمود اچکزئی کی جانب سے ایک تاریخی حوالہ دے کر پنجاب کے عوام پر لگائے گئے سنگین الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ دراصل پی ڈی ایم قیادت اس قسم کے بیانات دے کر پاکستان کے اندر صوبائیت کو ہوا دینا چاہتی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ تاریخ سے نابلد لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ پنجاب نے ہمیشہ انگریزوں اور دیگر حملہ آوروں کی ہر سازش کو ناکام بنایاہے۔ اچکزئی صاحب نے شجاع الملک کی جانب سے پنجابیوں کی مدد سے افغانستان پر حملے کا حوالہ دیا ہے جو صریحاً غلط ہے۔ کیونکہ شجاع الملک جو احمد شاہ ابدالی کا پوتا تھا اور افغانستان کی حکومت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے لدھیانہ میں انگریزوں کے پاس پناہ گزین تھا۔ کیونکہ بارک زئی کے امیر دوست محمد نے کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور شجاع الملک مہاراجہ رنجیت سنگھ کی مدد سے کابل حکومت دوبارہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔انگریزوں نے اس مقصد کے لئے فوج تیار کی لیکن مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انگریز فوج کو پنجاب سے گزرنے کی اجازت نہ دی جس کی وجہ سے یہ فوج سندھ اور بلوچستان کے راستے گزری۔ امیران سندھ نے اس مقصد کے لئے لاکھوں روپے اکٹھے کر کے انگریزفوج کو دیئے۔ دوسرا لشکر پشاور سے شاہ شجاع کے بیٹے شہزادہ تیمور کی قیادت میں بلوچستان کے راستے قندھار پہنچا۔دوست محمد کی فوج نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح شاہ شجاع افغانستان کا حکمران بن گیا۔ اس سارے واقعہ میں پنجاب اور لاہور کا کون سا کردار ہے جس کا شکوہ محمود اچکزئی نے پنجاب سے کیا ہے۔ انگریزوں کا ساتھ دینے کا گلا تو انہیں بلوچستان اور سندھ کی قیادت سے کرنا چاہیے تھا۔ لاہور دربار نے تو انگریزفوج کو پنجاب سے گزرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔








