پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ (پی ڈی ای) م کی ہوا نکل چکی ہے، ، وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کی نجی ٹی وی چینل سے بات چیت

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ (پی ڈی ای) م کی ہوا نکل چکی ہے، لاہوریوں نے ان کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا ملاپ زیادہ دیر چلتا نظر نہیں آرہا، گیس اور پٹرول بحران بارے وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل نجی ٹی وی چینل سے …

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ (پی ڈی ای) م کی ہوا نکل چکی ہے، لاہوریوں نے ان کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا ملاپ زیادہ دیر چلتا نظر نہیں آرہا، گیس اور پٹرول بحران بارے وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصل مقصد سینیٹ الیکشن کو شفاف کرانا ہے، الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں ہو رہے ہیں اس بارے میں ابھی کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم عمران خان اس کا اظہار بہت پہلے کر چکے ہیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قانون میں ترمیمکی جاسکتی اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں جس کے بعد افہام و تفہیم سے متفقہ حل نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سینٹ کے الیکشن ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں ، ہارس ٹریڈنگ کا الزمات لگتے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں ترمیم سارے نظام کیلئے بہتر ہو گی ، اس پر اپوزیشن کا کیا رویہ ہوتا ہے ، یہ دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے حکومت پر دبائو سے عوام باخبر ہے، ان کی ہوا لاہور جلسے کے بعد نکل گئی۔نوازشریف تقریر کر رہے ہیں اور کرسیاں خالی تھیں۔ لاہور میں ان کے گیارہ ایم این ایز ہیں اس کے بعد یہ کیا لانگ مارچ کریں گے ؟ اگر انہوں نے استعفے دینے ہیں تو اب تک استعفے آ جانے چاہئے تھے لیکن یہ استعفے نہیں دے رہے، کہتے ہیں کہ استعفے ہم اپنے لیڈر کو دیں گے ۔اب دو مہینے کا ٹائم دے دیا ہے۔یہ سارا کچھ مجموعی طور پر شکست کی نشانی ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتے تو انے کے وطیرے بالکل ہی مختلف ہوتے۔ یہ اس چیزکو واضح کرتی ہے کہ ان کی تحریک مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔پی ڈی ایم سے مذاکرات بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم کمزور ہو گئے ہیں اس لئے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں لیکن ایسی بات نہیں ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں جن میں تین چیزیں ایسی ہیں جن پر کسی قسم کی بات نہیں ہوسکتی ،ایک وزیراعظم کا استعفیٰ،دوسرا جلد انتخابات اور تیسرا این آر۔ اس کے علاوہ ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں جس کا انہیں فائدہ ہے انہیں سہارا مل جائے گا۔ اپوزیشن رہنمائوں پر بے شمار کرپشن اور چوری کے الزامات ہیں وہ آئیں ان الزامات کو مانیں پھر دیکھیں عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں لیکن این آر او نہیں ملے گا، بلاول بھٹوکہتے ہیں مذاکرات نہیں ہوسکتے ۔ بلاول اور مریم نے ایک دن بھی کام نہیں کیا اور سوال ایک منتخب وزیراعظم پر کرتے ہیں جس کی زندگی کامیابیوں سے بھری پڑی ہے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا ملاپ لانگ ٹرم نظر نہیں آرہا انہیں کیا پڑی کہ ن لیگ کا وزیراعظم منتخب کروائیں انہیں اس سے کیا ملے گا۔ زرداری صاحب میں سیاسی سوجھ بوجھ ہے وہ ہوتے تو ایسے بیانات نہ دیتے۔ لاہور میں ن لیگ کا ووٹ بینک ہے لیکن اب وہ نہیں رہا اور لاہوریوں نے ان کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے نوازشریف اور شہباز شریف کو جو سزائیں ملی ہیں ان میں کمی آئی۔ آئل اینڈ گیس کے بحران بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کے اوپر ایف آئی اے نے ایک انکوائری کی جس کی رپورٹ انہوں نے پیش کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس سے اداروں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ پر نظر ثانی کیلئے وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا میں بھی ممبر ہوں۔ کمیٹی رپورٹ کو بغور دیکھے گیاور تعین کرے گی کہ اس میں کس کا قصور ہے۔اس کے بعد وزیراعظم کو رپورٹ کریں گے۔ اس کے علاوہ بھی ایک رپورٹ آجکیبنٹ میں ایک رپورٹ پیش کی گئی۔ جس میں پچھلے تین سالوں کی وفاقی حکومت ٹیکس تفصیلات سامنے لائی گئیں۔اس کے بعد عیاں ہوگیا کہ بجٹ کا نیا سال شروع ہوتا ہے تو صوبوں کی حالت بہت بہتر ہوتی ہے لیکن وفاق کی نہیں اس پر بحث ہوئی اور مزید بحث ہوگی۔