اسلام آباد ۔ 5 اکتوبر (اے پی پی) چینی سفارت خانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری چینی اور پاکستانی حکومتوں کی طرف سے طے پانے والا ایک اہم اتفاق رائے ہے اور دوطرفہ روابط میں اضافے‘ عوام کے لئے روزگار میں بہتری اور عملی اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ بدھ کو یہاں ایک بیان میں ترجمان …
اخبارت میں شائع ہونے والی رپورٹ جھوٹ پر مبنی ہے،ترجمان چینی سفارتخانہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اکتوبر (اے پی پی) چینی سفارت خانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری چینی اور پاکستانی حکومتوں کی طرف سے طے پانے والا ایک اہم اتفاق رائے ہے اور دوطرفہ روابط میں اضافے‘ عوام کے لئے روزگار میں بہتری اور عملی اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ بدھ کو یہاں ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں ایک اردو اخبار میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ پاکستان میں چینی سفیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواءاور کے پی کے حکومت کو آگاہ کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ موجود نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ جھوٹ اور غلط رپورٹنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے سی پیک پر پیشرفت کے بارے میں مواصلاتی اور رابطہ کاری کا مضبوط نظام وضع کر رکھا ہے۔ 12 نومبر 2015ءکو سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی کے پانچویں اجلاس نے ”کثیر راستوں کے ساتھ ایک راہداری“ کے اصول کی منظوری دی جس کا مقصد پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی بالخصوص مغربی اور شمال مغربی علاقوں کو براہ راست فائدہ پہنچانا اور گوادر بندرگاہ کے لئے موثر رابطہ فراہم کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پانچویں جے سی سی اجلاس میں مونو گرافک سٹڈی آف ٹرانسپورٹ پلان کی منظوری دی گئی جس میں واضح طور پر ذکر ہے کہ برہان ۔ ڈی آئی خان ۔ کوئٹہ ۔ سوراب سیکشن سی پیک کے بڑے رابطہ مقامات کے مابین اشد درکار مواصلاتی راستہ فراہم کرے گا اور پاکستان کے مغربی علاقوں کو ملائے گا۔








