چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس مشیر عالم اور جسٹس عمر عطا بندیال نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس مشیر عالم اور جسٹس عمر عطا بندیال نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان،پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید ،اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکریٹری ڈاکٹرمحمد رحیم اعوان نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا ہے تاہم اس دوران عدلیہ پر عزم رہی اور اس نے ججز وکلاء اور سائلین کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔اس دوران عدلیہ نے ان تمام کی صحت کی صورتحال کو مدِنظر رکھا اور اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت کی اور یکم نومبر 2020 سے لے کر 30نومبر 2020 تک فائل ہونے والے اکثر مقدمات کو سماعت کے بعد نمٹا دیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ مستقبل میں بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات کو اٹھایا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ تمام ہوئی کورٹس بھی زیر التوا مقدمات کوجلد نمٹانے کے لئے تمام تر اقدامات کریں گے اس ضمن میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے یقین دہانی کرائی کہ زیر التوا کیسز کے خاتمے کے لیے تمام تر اقدامات کو اٹھایا جائے گا۔چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسپیشل کورٹ سمیت عدالتوں میں خالی اسامیوں کو جلد پر کیا جائے اور انہوں نے مزید کہا کہ سپیشل کورس کو انتظامی طور پرہائی کورٹس کے تابع لانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ لا اینڈجسٹس کمیشن آف پاکستان نے نیشنل جوڈیشل آڈیٹوریم یونٹ کے قیام کے لیے پی سی ون تیار کر لیا ہے اور وزارت قانون نے پی سی ون اور پی سی ٹو کو فائنل کرنے کے لئے یقین دہانی کرائی ہے۔کمیٹی نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ جیلوں میں رہائشی صورتحال کو بہتر بنایا جائے گا اور قیدیوں کی صحت کے حوالے سے معاملات میں بھی بہتری لائی جائے گی اور جیلوں میں داخلے کے وقت قیدیوں کے مختلف وبائی امراض کے ٹیسٹ بھی کیے جایں گے۔لا اینڈجسٹس کمیشن کے سیکرٹری نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو اسلام آباد میں ماڈل جیل کے قیام میں درپیش مسائل اور مشکلات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔کمیٹی نے اس حوالے سے تفصیلی غور کیا چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ وہ کام کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے حوالے سے خود اسلام آباد ماڈل جیل کی جگہ کا دورہ کریں گے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل پالیسی میکنگ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق جوڈیشل افسران کی ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا گیا اور افسران کو ٹریننگ دی گئی انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں سات چائلڈ کورٹس بھی کام کر رہی ہیں ۔نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی نے کہا کہ خواتین اور نا بالغ زیادہ متاثرین ہوتے ہیں اس لئے ان کے مقدمات کو دو ماہ کے عرصہ کے دوران نمٹایا جائے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تمام ماڈل کورٹس کی کارکردگی با رے بھی ہائی کورٹس دو ماہ میں رپورٹ پیش کریں۔