معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ایل این جی خرید و فروخت کے طریقہ کار سے متعلق منفی اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کو مستردکر دیا

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ایل این جی خرید و فروخت کے طریقہ کار سے متعلق منفی اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کرتے وقت اس کو ذخیرہ کرنے کے معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دی، ایل این جی کو گیس کی بجائے پٹرولیم مصنوعات …

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ایل این جی خرید و فروخت کے طریقہ کار سے متعلق منفی اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کرتے وقت اس کو ذخیرہ کرنے کے معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دی، ایل این جی کو گیس کی بجائے پٹرولیم مصنوعات کا حصہ بنانے سے ایل این جی استعمال کرنے والے ہر صارف کو اس کی پوری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، دسمبر 2017 اور دسمبر 2018 میں 18 ایل این جی کارگوز 8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر خریدے گئے، موجودہ حکومت نے رواں سال دسمبر اور اگلے سال جنوری کیلئے 6.34 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر 23.5 ایل این جی کارگوز خریدے ہیں۔ جمعہ کو مختلف ویڈیو ٹویٹس میں ندیم بابر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایل این جی ذخیرہ کرنے کا انتظام کئے بغیر اس کی درآمد شروع کی اور اسے گیس کی بجائے پٹرول قرار دیا جس کی قیمت مقامی پیدا ہونے والی گیس سے تقریباً دگنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی ذخیرہ کرنے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایل این جی کارگو کے استعمال میں چار سے پانچ دن لگتے ہیں جس کے بعد دوسرا کارگو لنگر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم گرما میں کم قیمت کے دوران ایل این جی نہ خریدنے کا سوال بھی معلومات کی کمی کا نتیجہ ہے، یہ ریکارڈ ہے کہ موجودہ حکومت نے موسم گرما میں ہر اس صارف کو ایل این جی فراہم کی ہے جس نے بھی اس کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ موسم گرما میں بجلی کی پیداوار میں تیل کا استعمال کیا گیا اور وافر ایل این جی کیوں نہیں خریدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام بھی سراسر غلط، قیاس آرائیوں اور غلط معلومات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے اپنے دور میں آخری موسم گرما میں تیل کے ذریعے کل بجلی کی 28 فیصد پیداوار حاصل کی جبکہ موجودہ حکومت نے 2019ءکے موسم گرما میں صرف 5 فیصد اور رواں سال کے 11 ماہ میں کل بجلی کی 3.6 فیصد پیداوار تیل سے حاصل کی ہے، اس سلسلہ میں تمام اعداد و شمار نیپرا کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری سال میں فروری 2018ءمیں 10.25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر مہنگی ایل این جی خریدی اور ٹینڈر کھلنے اور گیس کی ترسیل کے دورانیہ میں تقریباً 71 دن کا فرق تھا، اس سال اگست میں پاکستان کی حکومت نے پچھلے پانچ سال کے عرصہ میں سستی ترین ایل این جی خریدی ہے اور ٹینڈر کھلنے اور گیس کی ترسیل کے دورانیہ میں صرف 39 دن کا فرق تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایل این جی کے تمام کارگوز ٹینڈر کھلنے اور گیس کی ترسیل کے دورانیہ میں 61 سے 62 دنوں کے اوسطاً فرق کے ساتھ خریدے ہیں جبکہ رواں سال دسمبر اور اگلے جنوری کیلئے 45 سے 50 دنوں کے فرق کے ساتھ ایل این جی حاصل کی گئی ہے۔

مزید خبریں