اسٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی

کراچی ۔5جنوری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے مالی سال2020-21 کے لیے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر اپنی پہلی سہ ماہی رپورٹ منگل کو جاری کردی جس میں جولائی تا ستمبر2020 کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال21 کی پہلی سہ ماہی میں اس بات کی حوصلہ افزا علامات موجود تھیں کہ پاکستان کی معیشت کووڈ سے پہلے کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو رہی …

کراچی ۔5جنوری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے مالی سال2020-21 کے لیے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر اپنی پہلی سہ ماہی رپورٹ منگل کو جاری کردی جس میں جولائی تا ستمبر2020 کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال21 کی پہلی سہ ماہی میں اس بات کی حوصلہ افزا علامات موجود تھیں کہ پاکستان کی معیشت کووڈ سے پہلے کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو رہی ہے۔ معاشی سرگرمیوں کی بحالی زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں تھی۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیرونی اور مالیاتی شعبے کے اظہاریے بھی موافق رہے، جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ ترقی پذیر بحالی کو معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے حاصل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کووڈ بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مربوط معاشی پالیسی اقدامات سے بحران کے شدید اثرات کو کم رکھنے اور معاشی بحالی کی بنیادیں رکھنے میں مدد ملی۔خصوصاً بیرونی شعبے میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی مضبوطی، برآمدات کی بحالی اور خدمات کی کم درآمدات کی وجہ سے مالی سال20 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں جاری کھاتے میں فاضل درج کیا گیا۔ پاکستان ریمی ٹینس انی شیٹو کے تحت مسلسل پالیسی اقدامات اور باضابطہ اور ڈیجیٹل ذرائع کے فروغ نے ترسیلاتِ زر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کووڈ کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی سفر پر عائد پابندیوں سے بھی ترسیلات زر کا رخ بے ضابطہ کے بجائے باضابطہ ذرائع کی جانب موڑنے میں مدد ملی جبکہ اس کے ساتھ پاکستانی خدمات کی درآمدات کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی وجہ سے پہلی سہ ماہی کے دوران درآمدی ادائیگیاں گذشتہ برس کے مقابلے میں قدرے کم رہیں۔ برآمدی وصولیاں گذشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کی کم سطح کے مقابلے میں بحال ہوئیں لیکن یہ مالی سال20 کی پہلی سہ ماہی کی نسبت کسی حد تک کم رہیں کیونکہ اہم تجارتی شراکت داروں کی طلب دھیمی رہی۔ اس سے قطع نظر پاکستان کی برآمدی کارکردگی متعدد دیگر ابھرتی معیشتوں کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، جس کا ایک سبب معاشی سرگرمیوں کی قدرے جلد بحالی تھی۔ نتیجتا، برآمدات نے اپنی کووڈ سے پہلے ستمبر کی سطح کو چھو لیا، جسے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور دوا سازی کی بلند برآمدی وصولیوں سے مدد ملی۔ بحیثیت مجموعی، جاری کھاتے کے فاضل سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہوا اور سہ ماہی کے دوران شرح مبادلہ کو تقویت ملی۔ مارکیٹ کے متعین کردہ شرح مبادلہ کی دھچکے جذب کرنے کی اہم خصوصیت بھی سہ ماہی میں نمایاں رہی کیونکہ پاکستانی روپیہ میں دونوں سمتوں میں لچکدار ردوبدل ہوا جو بیرونی شعبے کی مخفی مبادیات اور بہاو سے ہم آہنگ ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بروقت اور مربوط پالیسی اقدامات کے ذریعے وبا کے اثرات زائل کرنے کی قومی کوششوں سے معاشی بحالی کو جڑ پکڑنے کے لیے سازگار ماحول فراہم ہوا۔ خصوصاً زری اور مالیاتی پالیسیاں ایک معاون پالیسی ماحول کی نمائندہ تھیں جبکہ اس سے ایک سال قبل بلند مہنگائی ، جڑواں مالیاتی اور جاری کھاتے کے خساروں کی صورت حال میں طلب میں کمی پر توجہ مرکوز تھی۔ اس تبدیلی نے کووڈ کی پہلی لہر پر قابو پانے کے لیے ملک میں نافذ لاک ڈاون میں نرمی کے بعد معاشی سرگرمی کو سہولت دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق صنعت کے شعبے میں سیمنٹ اور فوڈ پروسیسنگ کی صنعتوں میں قابل ذکر نمو کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے شعبے میں بحالی بھی ہوئی۔ سیمنٹ کی ترسیلات، پیٹرولیم مصنوعات اور کاروں کی فروخت، بجلی کی پیداوار، صارفی قرضوں، اور جلد فروخت ہونے والی اشیا (ایف ایم سی جی) کی فروخت جیسے طلب کے اظہاریے اس میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایل ایس ایم میں نمو کے مطابق روزگار میں بھی نمو ہوئی، جس کی عکاسی پنجاب اور سندھ کے شماریاتی بیوروز کے مرتب کردہ صنعتی روزگار کے جولائی اور اگست 2020 کے ماہانہ سرویز سے بھی ہوتی ہے۔ ان حوصلہ افزا پیش رفتوں کی عکاسی اسٹیٹ بینک کے اعتماد کاروبار سروے سے بھی ہوتی ہے اور فروری2020 کے بعد سے پہلی مرتبہ کاروباری براداری کے احساسات مثبت رہے ہیں۔زرعی شعبے میں خریف کے سیزن میں کپاس کے علاوہ تمام اہم فصلوں کی پیداوار ان کے اہداف سے زیادہ رہی۔ مجموعی اچھے نتائج کو گذشتہ برس کے مقابلے میں چاول اور گنے کے زیرکاشت رقبے میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت کے زراعت پیکیج سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے، جس میں کھاد کے زراعانت پر خصوصی زور دیا گیا تھا۔ تاہم کپاس کی پیداوار ہدف سے خاصی کم رہی، اس فصل کے زیر کاشت رقبہ1981-82 کے بعد سے کم ترین سطح پر آ گیااور مون سون کی غیر معمولی بھاری بارشوں(خصوصا سندھ کے کپاس اگانے والے کچھ اضلاع میں) اور کیڑوں کے حملوں نے بھی کپاس کی یافت کم کرنے میں کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق مالیاتی لحاظ سے گذشتہ سہ ماہی میں کووڈ وبا کے سبب بگاڑ کے بعد مالی سال21 کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی توازن دوبارہ فاضل ہوگیا۔ بنیادی فاضل جی ڈی پی کا 0.6 فیصد ہے، جو تقریبا مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی جتنا ہی ہے۔ مزید برآں اسٹیٹ بینک سے نئے قرضوں کی صفر سطح مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے حکومتی عزم کے تسلسل کی عکاس رہی۔ مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مالیاتی خسارہ سال بسال بنیاد پر بلند رہا۔ اس کی وجوہات میں مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی کی نسبت نان ٹیکس محاصل میں کمی، انفراسٹرکچر کے جاری منصوبوں پر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور بلندسودی ادائیگیاں شامل ہیں۔مہنگائی کے محاذ پر گذشتہ سہ ماہی کی نسبت مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی میں عمومی مہنگائی تھوڑی سی بڑھ گئی، جسے غذائی مہنگائی سے منسوب کیا جاسکتا ہے، جس میں تلف پذیر اور غیرتلف پذیر اشیا کی قیمتیں رسدی عوامل کے باعث بڑھیں۔ تاہم، مہنگائی کا مخفی دبا، جس کی پیمائش غیرغذائی غیرتوانائی اشاریے سے کی جاتی ہے، دھیما رہا، جس کا سبب مہنگائی کی مستحکم توقعات ہیں۔ زیرجائزہ مدت میں قوزی مہنگائی میں کمی کو بھی شرح مبادلہ میں اضافے، مالی سال 21 کے بجٹ کی ٹیکس اور ٹیرف رعایات اور نقل و حمل کی قدرے مستحکم لاگتوں جیسے عوامل سے منسوب کیا گیا۔زری پالیسی کمیٹی نے سہ ماہی کے دوران پالیسی ریٹ 7.0فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ یہ شرح سود، حکومت اور اسٹیٹ بینک کی معاون پالیسیوں کے مطابق ابھرتی ہوئی معاشی بحالی کی معاونت کے لیے مناسب ہے جبکہ اس سے مہنگائی کی توقعات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ مالی استحکام کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ سازگار زری پالیسی کے علاوہ مرکزی بینک نے کووڈ کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جن سے مالی سال21 کی پہلی سہ ماہی میں اسٹیک ہولڈرز کو سہولتوں کی فراہمی میں مدد ملی، ان میں سرمایہ جاتی بفرز جاری کرنا، کارپوریٹ، ایس ایم ایز اور گھرانوں کے قرضوں کی اصل رقم کی واپسی مخر کرنا، قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ/ری شیڈولنگ، مالی خدمات کی دستیابی اور تسلسل یقینی بنانا اور نظام ادائیگی سے متعلق لاگتوں میں کمی شامل ہیں۔ ان بروقت اقدامات سے بینکوں کی لچکداری کو تقویت ملی اور کووڈ کے دھچکے کے باوجود خطرہ قرض کو محدود کیا گیا، جبکہ کاروباری اداروں نے عارضی معاشی ری فنانس سہولت (ٹی ای آر ایف) سے زیادہ استفادہ کیا جس کے تحت معاشی بحالی اور طویل مدتی نمو کی اعانت کی خاطر سرمایہ کاری کے لیے کم شرحوں پر فنانسنگ فراہم کی جاتی ہے۔خصوصا، کمرشل بینکوں کی جانب سے ٹی ای آر ایف کی مد میں منظورشدہ رقم24دسمبر2020 تک بڑھ کر263.8ارب روپے تک جا پہنچی، جبکہ اسٹیٹ بینک کی روزگار اسکیم (روزگار میں اعانت اور برطرفیوں کو روکنیکے لیے) کی رقم13نومبر2020 تک بڑھ کر238.2ارب روپے ہو گئی۔ اسٹیٹ بینک کی روزگار اسکیم کے تحت منظور شدہ درخواستوں میں ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹ اداروں کا حصہ تین چوتھائی رہا۔ اسی طرح کووڈ سے نمٹنے کی ری فنانس سہولت (جو شعبہ صحت کی اعانت کرتی ہے) کی رقم 31دسمبر2020 تک بڑھ کر8.4ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے قرض میں توسیع اور /یاری اسٹرکچرنگپیکج پر بھی مثبت ردعمل آیا اور24دسمبر2020 تک1.582ملین قرض گیروں نے قرض کی اصل رقم کی واپسی مخر اور ری اسٹرکچر کرنے کی درخواستیں دیں۔ خصوصا، مائیکروفنانس اور ایس ایم ای قرض گیروں نے قرضہ جاتی ریلیف اسکیم سے خاصا فائدہ اٹھایا۔ مائیکروفنانس قرض گیروں کی جانب سے جمع کردہ تقریبا99فیصد درخواستیں قبول کی گئیں اور اس جز کے لیے101.3 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح ایس ایم ایز کی جانب سے منظور کردہ تقریبا96فیصد درخواستوں کی24دسمبر2020 کو منظوری دی گئی جس میں سے27.5ارب روپے قرض کی اصل رقم مخر کرنے اور قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے تھے۔