سٹیٹ بینک سکیم کے تحت 6 کھرب 57 ارب 15کروڑ روپے کے قرضے موخر

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں سٹیٹ بینک کی قرضہ موخر و ری شیڈول کرنے کی اسکیم کے تحت اب تک 6 کھرب 57 ارب 15کروڑ 40 لاکھ روپے کے قرضوں کو ایک سال کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اعداد وشمارکے مطابق اصل زر کی ادائیگی ایک سال کے لیے موخر کرنے …

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں سٹیٹ بینک کی قرضہ موخر و ری شیڈول کرنے کی اسکیم کے تحت اب تک 6 کھرب 57 ارب 15کروڑ 40 لاکھ روپے کے قرضوں کو ایک سال کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے جاری کردہ اعداد وشمارکے مطابق اصل زر کی ادائیگی ایک سال کے لیے موخر کرنے کی سکیم کے تحت یکم جنوری2021 تک سٹیٹ بینک کو 16 لاکھ، 68 ہزار 534درخواستیں موصول ہوئیں جن کے ذمہ واجب الادا قرضہ کا حجم 25 کھرب 24 ارب 44 روپے ہے، ان میں سے16لاکھ 6ہزار 447 درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے اور 6 کھرب 57 ارب 15کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے قرضوں کو ایک سال کے لیے موخرکردیا گیا۔ اسی طرح اس سکیم کے تحت 2 کھرب 21 ارب 70 8 کروڑ8 لاکھ روپے سے زیادہ کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ،ری شیڈولنگ کی منظوری دی گئی ہے۔اس سکیم کے تحت صارف قرض کا اصل زر ایک سال موخر کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔یہ سہولت ان صارفین کے لیے ہے جن کی ادائیگی 31 دسمبر 2019 ء تک باقاعدہ ہوچکی ہو،قرض ادائیگی موخر کرنے پر بینک کوئی فیس یا سود چارج نہیں کرتے۔ بینک اس دوران صرف سود یا منافع کی وصولی کر سکیں گے جو صارفین سود یا منافع کی رقم ادا نہ کرسکیں وہ ری سٹرکچر کی درخواست کرسکتے ہیں۔ قرضوں کو موخر یا ری شیڈول کرنے سے کریڈٹ ہسٹری متاثر نہیں ہوتی۔