اقوام متحدہ۔3فروری (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ مشکلات کے باوجو کافی پیش رفت کے بعد افغان امن عمل سے صرف نظر ایک المیہ ہو گا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ متحدہ کے آف فاردی کوارڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز(او سی ایچ اے) کے زیراہتمام افغانستان کے لیے ہیومینیٹیرین رسپانس پلان 2021 پر اقوام متحدہ کے سینئر حکام کے بریفنگ سیشن …
مشکلات کے باوجود پیش رفت کے بعد افغان امن عمل سے صرف نظر ایک المیہ ہو گا، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔3فروری (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ مشکلات کے باوجو کافی پیش رفت کے بعد افغان امن عمل سے صرف نظر ایک المیہ ہو گا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ متحدہ کے آف فاردی کوارڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز(او سی ایچ اے) کے زیراہتمام افغانستان کے لیے ہیومینیٹیرین رسپانس پلان 2021 پر اقوام متحدہ کے سینئر حکام کے بریفنگ سیشن کے موقع پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مشکلات کی وجہ سے ہم امن عمل کو روک کر فوجی حکمت عملی کی طرف پلٹنا ایک المیہ ہو گا۔افغانستان میں امن کے قیام امن کا واحد راستہ سیاسی حل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان میں کشیدگی کو فوجی طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ افغانستان کے سیاسی منظر نامے کے مطابق سیاسی تصفیے کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔پاکستان نے بین الاقوامی برادری سےکے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی ملک پر حملہ کرنے یا دھمکانے کے لیے القاعدہ ، داعش اور بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کو افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے تمام افغان فریقین پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں تشدد میں کمی لانے اور امن و امان کے قیام کے لیے فوری اقدامات کریں اور اس کے لیے جامع سیاسی تصفیہ کے ذریعے بین الافغان امن مزاکرات سے جو امید کی کرن دوبارہ نظر آئی ہے وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ افغان فریقین کو بیرونی اور غیر ملکی مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں کا اختیار دینا اور ان کی طرف سے اپنی منزل کا تعین کرنا ضروری ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں امن و امان کے قیام کی ضرورت ہے کیونکہ غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردی سے انسانی صورتحال پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔پاکستنی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں ترقی کے لیے ایک بلین ڈالر کا وعدی کیا ہے جن میں سے 500ملین ڈالرانفراسٹرکچر اور صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبوں پر پہلے ہی خرچ کیے جاچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس اور متعدد ممالک میں سرحدوں کی بندش کی باوجود پاکستان کی حکومت نے افغان شہریوں کو خاص طور پر صحت کی سہولیات کی غرض سے پاکستان آنے کے لیے ویز اپالیسی پر نظرثانی کی اور اس سلسلے میں ہم نے پاک افغان سرحد پر 5 پوائنٹس کھولےاور افغانستان کو طبی آلات عطیہ کیے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 4 دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور ہم ان کی اپنے گھروں کو محفوظ اور پروقار واپسی کا عزم رکھتے ہیں اور اس کے لیے ہم افغان حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1.16 بلین ڈالر کے وسطی ۔جنوبی ایشیا کے توانائی منصوبےکاسا۔1000(ترکمانستان افغانستان افغانستان انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے)، افغانستان کے ساتھ تجارت کے فروغ سمیت علاقائی روابط کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے کام جاری رکھے گا اور سی پیک میں افغانستان کی شمولیت سے انفراسٹرکچر، سماجی و اقتصادی ترقی کی حوصلہ افزائی ، غربت کے خاتمے اور علاقائی تجارت میں بہتری آئے گی۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے پاکستان کے پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری اور خوشحال افغانستان اور ہمسایہ ممالک میں امن و امان کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔








