مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے18 ماہ بعد بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، رپورٹ

سرینگر۔14فروری (اے پی پی):غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںفورم فارہیومن رائٹس نے علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 18 ماہ بعد بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فورم فارہیومن رائٹس ایک آزاد ادارہ ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج …

سرینگر۔14فروری (اے پی پی):غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںفورم فارہیومن رائٹس نے علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 18 ماہ بعد بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فورم فارہیومن رائٹس ایک آزاد ادارہ ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر اور کشمیر کے باے میں سابق مذاکرات کا ررادھا کمار اس کے شریک چیئر پرسن ہیں۔یہ فورم کی دوسری رپورٹ ہے اور اس میں اگست 2020 سے جنوری 2021 تک کے عرصے کا احاطہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہارکیاگیاہے کہ فوجی محاصرے کے نفاذ کے 18 ماہ بعد بھی زیادہ تر خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ رپورٹ میںکہاگیاکہ جبری نظربندیاں جاری ہیں ، ضابطہ فوجداری 1973 (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے اوربچوں اور علاقے کے متعدد منتخب ارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں افراد نظربند ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی ہونے والے ضلعی ترقیاتی انتخابات میں”حفاظتی حراست“ کی ایک نئی قسم متعارف کرائی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی صنعتیں ابھی بھی محاصرے اور کورنا وائرس کی وباکے دوہرے اثرات کی زد میں ہیں اور اکثرلوگ قرضوں کے نادہندہ یا کاروباربند کرنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں بے روزگاری 16.6 فیصد ہے، صحت کی دیکھ بھال پر اب بھی پابندیاں ہیں اور مقامی اور علاقائی ذرائع ابلاغ کو پہلے جو تھوڑی سی آزادی تھی ، دوبارہ حاصل نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اراضی قوانین میں تبدیلیوں سے سیاسی اور معاشی حقوق مزید سکڑ گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ شدید تنقید کی زد میںنئی میڈیا پالیسی کے نفاذ سے ذرائع ابلاغ کے تقریبا20 ادارے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور جبری گرفتاری کے دیگر قوانین کی منسوخی یا ان میں ترمیم کرکے آئینی اخلاقیات کے مطابق بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ان کا سیاسی مخالفیں کے خلاف غلط استعمال نہ کیا جاسکے۔فورم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بالخصوص صحافیوں پر حملوں کے حالیہ واقعات میں ملوث پولیس ، مسلح افواج اورپیراملٹری فورسز کے اہلکاروں کے خلاف کاروائیوں کا مطالبہ کیا ہے ۔فورم نے کہاکہ20جولائی 2020 کو شوپیاں میں راجوری کے تین نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں پولیس کے انکشافات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیس فوج کے کورٹ مارشل کے بجائے فوجداری کارروائی کے لئے ایک موزوں کیس ہے۔