نیویارک ۔26فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ اور امریکہ نے پاکستان اور بھارت کےکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے تمام معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے ۔اور کہا ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی طرف مثبت قدم ہے ۔ پاکستان اور بھارت کی طرف سے سرحد پار فائرنگ روکنے کے فیصلہ کے اعلان کے فوری …
اقوام متحدہ اور امریکا کا کشمیر میں کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کا خیر مقدم

مزید خبریں
نیویارک ۔26فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ اور امریکہ نے پاکستان اور بھارت کےکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے تمام معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے ۔اور کہا ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی طرف مثبت قدم ہے ۔
پاکستان اور بھارت کی طرف سے سرحد پار فائرنگ روکنے کے فیصلہ کے اعلان کے فوری بعد ترکی سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بورکیز نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اقدار کے مظہر اس معا ہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ جنرل اسمبلی کے صدر کے ترجمان برینڈن ورما نے ریگولر بریفنگ کے دوران وولکان بوزکیر کا وہ پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے ہونے والے معاہدے کا دلی طور پر خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کے بیان کردہ معاہدہ سے ایک دوسرے کے بنیادی ایشوز اور تحفظات کو حل کرکے پائیدار امن کے حصول میں مددملے گی جو دیگر ممالک کے لئے ایک مثال ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اقدار کا مظہر ہے ۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی معاہدےکو مثبت اقدام قرار دیا ۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کا مشاہدہ کرنے اور قائم میکانزم کے ذریعے معاہدے بارے ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے جاری مشترکہ بیان کو حوصلہ افزا قرار دیاہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یہ مثبت قدم مزید بات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔
اقوام متحدہ میں اے پی پی کے نمائندے کے سوال کے جواب میں ، ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کا ابھی تک دہائیوں پرانے کشمیر تنازعہ کے حل کے لئے مذاکراتی عمل شروع کرانے کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے رہنمائوں سے رابطہ کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کی خدمات ہر اس رکن ریاست کے لئے ہمیشہ دستیاب رہتی ہیں جوان سے ان خدمات کی درخواست کریں ۔ واشنگٹن میں ، وائٹ ہائوس کی پریس سیکر ٹری جین ساکی نے بھی جمعرات کے روز اپنی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ خطے میں کئی رہنمائوں اور عہدیداروں کے ساتھ قریبی طور پر مصروف عمل ہے۔جین ساکی نے کہا کہ امریکہ، بھارت اور پاکستان کےاس مشترکہ بیان کا خیرمقدم کرتا ہے کہ دونوں ممالک نے 25 فروری سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا ہے۔مشترکہ بیان کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جنوبی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ امن اور استحکام کی سمت ایک مثبت اقدام ہے جو ہمارے مشترکہ مفاد میں ہے اور ہم دونوں ممالک کی اس پیشرفت پر قائم ر ہنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ایک علیحدہ نیوز کانفرنس میں ، محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے فریقین سے 2003 کے جنگ بندی معاہدے کے تحت کنٹرول لائن پر کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی تھی۔جب امریکہ کے کردار کی بات آتی ہے تو ، ہم بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر اور دیگر تشویش کے معاملات پر براہ راست بات چیت کی حمایت کرتے رہتے ہیں ،ترجمان سے جب ان تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بائیڈن انتظامیہ خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والی ہے ، کیونکہ جب صدرجو بائیڈن نائب صدر تھے تو ، ان کے پاکستان سے کافی تعلقات تھے ، خاص طور پر اس حد تک کہ جب انہوں نے پاکستان کو افغانستان کے حوالہ سے ایک اہم پارٹنر کے طور پر دیکھا تھا۔پرائس نے کہا کہ پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے جس کے ساتھ امریکہ بہت سارے مفادات کا شراکت دار ہے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان اور کشمیر سمیت دیگر مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ باہمی مفادات کے ان تمام شعبوں میں تعمیری کردار ادا کرنا ہے








