امریکہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والے مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے ، امریکی سینیٹر بوب میننڈیز

نیویارک۔4مارچ (اے پی پی):امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ڈیموکریٹ چیئرمین سینیٹر بوب میننڈیز نے زور دیا ہے کہ امریکہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموارکرنے کی ضرورت ہے جو 2 ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کا باعث ہے۔ انہوں نے امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی (اے پی پی اے سی) ے زیراہتمام ورچوئل تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کے …

نیویارک۔4مارچ (اے پی پی):امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ڈیموکریٹ چیئرمین سینیٹر بوب میننڈیز نے زور دیا ہے کہ امریکہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموارکرنے کی ضرورت ہے جو 2 ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کا باعث ہے۔

انہوں نے امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی (اے پی پی اے سی) ے زیراہتمام ورچوئل تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ امریکا کومسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور خطے میں ہمارے لیےدونوں ریاستیں اہمیت کی حامل ہیں خاص طور پر چین کے ساتھ معاملات کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حالیہ معاہدے پر بہت خوشی ہوئی ہے لیکن اس حوالے سے یقیناً ابھی بہت کام کرنا باقی ہے ۔ انہوں نے پاکستانی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے نمائندہ کے امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیےثالثی کا کردار ادا کرنے اور اقوام متحدہ سے منظور شدہ کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے خصوصی سفارتی نمائندے کی تقرری کے حوالے سے سوال کے جواب میں واضح کیا کہ 2018 میں پاکستان میں تعینات امریکی سفارتکار ڈیوڈ ہیل کو واپس بلا کر انہیں ترقی دی گئی جس کے بعد سے اب تک پاکستان میں کسی امریکی سفارتکار کی تعیناتی نہیں کی گئی لہذا خطے سے کئی سالوں کی عدم موجودگی کے بعد امریکہ کو پاکستان کے ساتھ کئی مختلف سمتوں میں دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھارت کے ساتھ بھی مزید مضبوطی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خصوصی سفارتی نمائندے کی تعیناتی ضروری ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی خطے کے نائب وزیرخارجہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور اگر انتظامیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خصوصی مندوب کی تعیناتی کو ضروری سمجھتی ہے تو وہ بھی اس کی حمایت کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان میں امریکی سفارتکار اور اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ کی تعیناتی کے لیے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے فیصلے کا انتظار ہے اور خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہم مسئلہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کرنے کے لیے کردار ادا کرنے سمیت مسئلہ کشمیر سے متعلق دونوں ممالک کی حکومتی سطح پر اٹھانے کے لیے انتظامیہ پر زور ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے بھارت کے حالیہ دورے کے دوران اس متنازع شہریت کے قانون سے متعلق مشکل سوال اٹھایاجس کے تحت بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس وقت کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو خط میں بھارت کے متنازع شہریت کے قانون (سی اے اے) اور کشمیر کی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا اور ابھی حال ہی انہوں نے امریکہ میں بھارتی سفارتکار کےسامنے بھی یہ مسئلہ اٹھایا۔