واشنگٹن۔26مارچ (اے پی پی):امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ان کے دور اقتدار کے پہلے 100 دنوں میں امریکی شہریوں کو کورونا ویکیسن کی 20 کروڑ خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اپنے اقتدار کی منتقلی کے بعد گزشتہ روز اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنی انتظامیہ کی طرف سے عوام کے لیے ویکسینیشن کے ہدف …
میرے اقتدار کے پہلے 100 دنوں میں امریکی شہریوں کو کورونا ویکیسن کی 20 کروڑ خوراکیں فراہم کی جائیں گی،یکم مئی تک افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مشکل ہے، امریکی صدر کی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
واشنگٹن۔26مارچ (اے پی پی):امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ان کے دور اقتدار کے پہلے 100 دنوں میں امریکی شہریوں کو کورونا ویکیسن کی 20 کروڑ خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے اپنے اقتدار کی منتقلی کے بعد گزشتہ روز اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنی انتظامیہ کی طرف سے عوام کے لیے ویکسینیشن کے ہدف کو دوگنا کرنے کا اعلان کیا۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکا میں 10 کروڑ افراد کو ویکسین اعلان کردہ ڈیڈ لائن سے 42 روز پہلے ہی لگائی جا چکی ہے۔
امریکی صدر نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مقررہ تاریخ تک افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کے افغانستان میں زیادہ عرصے تک قیم کا ارادہ نہیں ہے لیکن ہم افغانستان کو محفوظ اور منظم انداز میں چھوڑنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا افغانستان سے ضرور نکلے گالیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب ہوسکے گا تاہم یکم مئی کی مقررہ تاریخ تک افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیسے اور کن حالات میں ہم افغانستان سے نکلنے کے اس سمجھوتے کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے جسے سابق صدر ٹرمپ نے طے کیا تھااور جو بظاہر لگتا ہے کہ پورا کرنا مشکل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ سال امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی نہیں دیکھ رہے ۔
صدر نے مستقبل کے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا 2024 میں بھی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرا منصوبہ ہے کہ میں دوبارہ الیکشن لڑوں گا اور میں قسمت پر یقین رکھتا ہوں کیونکہ میں نے ساڑھے چار برس یا ساڑھے تین برس پہلے یقین کے ساتھ کوئی منصوبہ کبھی نہیں بنا یا۔ اس موقع پر انہوں نے چین اور شمالی کوریا کے ساتھ امریکا کے تعلقات اور اپنے مستقبل کے سیاسی منصوبوں سمیت متعدد امور پر بات کی۔








