یورپ میں کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ویکسین لگانے کا عمل ناقابل قبول حد تک سست ہے،عالمی ادارہ صحت

کوپن ہیگ۔1اپریل (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے یورپ میں کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ویکسین لگانے کے عمل کو ناقابل قبول حد تک سست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سست روی سے متاثرہ کیسز میں اضافے کے باعث کورونا وائرس کی وبا طوالت اختیار کر رہی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپ کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہینس کلوگ نے جمعرات کو …

کوپن ہیگ۔1اپریل (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے یورپ میں کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ویکسین لگانے کے عمل کو ناقابل قبول حد تک سست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سست روی سے متاثرہ کیسز میں اضافے کے باعث کورونا وائرس کی وبا طوالت اختیار کر رہی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپ کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہینس کلوگ نے جمعرات کو بیان میں یورپ میں کورونا ویکسین لگانے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین ہی اس وبا سے نکلنے کا بہترین راستہ ہے تاہم ویکسین لگانے کا عمل ناقابل قبول حد تک سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ویکسین کے حصول میں رکاوٹیں دور کرنے، ہمارے پاس موجود تمام ویکسینز کے استعمال اور ویکسین کی تیاری اور فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ اب تک یورپ کی صرف 10 فیصد آبادی کو ویکیسن کی پہلی خوراک اور 4 فیصد کو ویکسین کی مکمل خوراک لگائی گئی ہے ۔

عالمی ادارہ سھت نے کہا کہ ویکسین لگانے کے سست عمل سے کورونا وائرس کی وبا طویل ہو رہی ہے اور یورپ میں متاثرہ کیسز کی صورتحال پہلے سے زیادہ پریشان کن ہو رہی ہے کیونکہ 5 ہفتے پہلے یورپ میں متاثرہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے کم تھی لیکن گزشتہ ہفتے یورپی خطے کے زیادہ تر ممالک میں 16 لاکھ نئے کیس رپورٹ ہوئے اور اموات 10 لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہیں جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد 4 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کے قریب ہے۔

ادارے نے کہا کہ امریکا کے بعد کورونا وائرس سے انتہا ئی متاثر ہونے والا دوسرا بڑا خطہ ہے ۔