تیل کی عالمی طلب میں اپریل کے دوران1 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کمی ہوئی،آئی ای اے

پیرس۔12مئی (اے پی پی):عالمی ادارہ برائے توانائی ( آئی ای اے) نے کہا ہے کہ اپریل کے دوران خام تیل کی عالمی طلب میں ماہانہ بنیاد پر اوسطاً 1 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کمی ہوئی جس کی وجہ بھارت اور دیگر کئی ملکوں میں کورونا وائرس کی شدت کے باعث تیل کی طلب کم ہونا ہے،تاہم ویکسینیشن کے باعث سال کے دوسرے ہاف میں فیول کی طلب مستحکم رہنے …

پیرس۔12مئی (اے پی پی):عالمی ادارہ برائے توانائی ( آئی ای اے) نے کہا ہے کہ اپریل کے دوران خام تیل کی عالمی طلب میں ماہانہ بنیاد پر اوسطاً 1 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کمی ہوئی جس کی وجہ بھارت اور دیگر کئی ملکوں میں کورونا وائرس کی شدت کے باعث تیل کی طلب کم ہونا ہے،تاہم ویکسینیشن کے باعث سال کے دوسرے ہاف میں فیول کی طلب مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

آئی ای اے کی جانب سے بدھ کو جاری رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث خام تیل کی عالمی طلب اپریل کے دوران بھی متاثر رہی اوراس میںمارچ کی نسبت اوسطاً یومیہ 1 لاکھ 30 بیرل کمی آئی، تاہم دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کورونا وائرس ویکسینیشن کی وجہ سے سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران تیل کی طلب مستحکم رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خام تیل کی عالمی طلب میں کمی کی بڑی وجہ بھارت اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں کورونا وائرس کی شدت ہے جس نے یورپ اور امریکا جیسے خطوں میں ہونے والی اقتصادی بہتری کے اثرات کو پیچھے کردیا۔

آئی اے ای نے رواں سال تیل کی مجموعی عالمی طلب کے پیشگی اشاریے میں کمی کرتے ہوئے اس کی طلب میں صرف 5.4 ملین بیرل یومیہ اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس سے قبل کی سطح کے قریب جارہی ہے۔توانائی ادارے نے کہا کہ رواں سال کے آخر تک خام تیل کی طلب بڑھ کر 99.6 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے جو 2019 ءکی آخری سہ ماہی کی سطح 100.6 ملین بیرل یومیہ سے کچھ زیادہ کم نہیں۔

عالمی ادارہ برائے توانائی نے تیل کی سپلائی میں اضافے بارے کوئی امکان ظاہر نہیں کیا کیونکہ اوپیک پلس ممالک پیداوار میں اضافے کے لیے ابھی تک تیار نہیں جس کی وجہ اس کی قیمتوں میں استحکام ہے۔آئی اے ای کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس ملکوں نے اگر پیداوار میں کمی کا سلسلہ برقرار رکھا تو عالمی طلب و رسد میں رواں سال کی آخری سہ ماہی تک 2.5 ملین بیرل یومیہ کا فرق آسکتا ہے، حتیٰ کہ اگر ایران بھی مغربی ملکوں سے معاہدے کے نتیجے میں اپنی آئل پروڈکشن شروع کرتا ہے تو وہ بھی رواں سال 1.7 ملین بیرل یومیہ تک ہی جاسکے گا چنانچہ اس صورتحال میں تیل کے نرخ بڑھیں گے جس کا فائدہ اوپیک پلس ملکوں کو اضافی آمدنی کی صورت ہوگا،یہ ملک ہی تیل کی عالمی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔