ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقہ ٹیگرے میں قحط کا خطرہ ہے ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔26مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ہیومینیٹیرین افیئرز اینڈ ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارک لوکاک نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقہ ٹیگرے میں فوری امدادی اقدامات نہ کیے گئے تو وہاں قحط کا سنگین خطرہ ہے ۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ 2 ماہ میں امداد نہ بڑھائی گئی تو قحط کا سنگین …

اقوام متحدہ۔26مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ہیومینیٹیرین افیئرز اینڈ ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارک لوکاک نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقہ ٹیگرے میں فوری امدادی اقدامات نہ کیے گئے تو وہاں قحط کا سنگین خطرہ ہے ۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ 2 ماہ میں امداد نہ بڑھائی گئی تو قحط کا سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا کے علاقہ ٹیگرے میں گزشتہ 6 ماہ سے فوجی آپریشن ، لڑائی اور تشدد جاری ہے جہاں کئی ماہ سے قحط کی کیفیت منڈلارہی ہے لہذا کشیدگی، تشدد اور غذائی تحفظ کے مابین اس ظالمانہ چکر کو توڑنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ ٹیگرے میں قحط سے بچنے کے لیے سکیورٹی کونسل اور دیگر رکن ریاستیں تمام ممکنہ اقدامات کریں ۔

انہوں نے کہا کہ ٹیگرے میں شہریوں کے خلاف اس وقت بھی تشدد اور تباہی جاری ہے جہاں آج 20 فیصد آبادی کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جبکہ ٹیگرے کشیدگی کے ساڑھے 6 ماہ کے دوران تقریباً 20 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور شہریوں کو قتل کیا جارہا ہے نیز عصمت دری اور جنسی تشدد جیسے گھنائونے واقعات رونما اور منظم ہو رہے ہیں اور ہسپتالوں اور زرعی زمینوں سمیت سرکاری و نجی ساختی ڈھانچوں اور شہری عمارات کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں لوٹ مار، جلائو گھیرائو کے باعث 90 فیصد فصل کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 80 فیصد مویشی چوری یا ذبح کر دیئے گئے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار نے کہا کہ مارچ میں بہتری اور مقامی سطح پر حکام کے تعاون کے باوجود حال ہی میں انسانی رسائی کی صورتحال خراب ہے ۔