وزیراعظم محمد نواز شریف کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ پانامہ پیپرز کا معاملہ سپریم کورٹ سے حل ہوگا اور عدالت عظمیٰ میں آئین اور قانون کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ عوام نے سڑکوں پر احتجاج کو مسترد کر دیا، شکرانہ ادا کرنے والوں کو بہت پہلے شکر ادا کرنا چاہئے تھا جبکہ ہمارا موقف پہلے دن …

اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ پانامہ پیپرز کا معاملہ سپریم کورٹ سے حل ہوگا اور عدالت عظمیٰ میں آئین اور قانون کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ عوام نے سڑکوں پر احتجاج کو مسترد کر دیا، شکرانہ ادا کرنے والوں کو بہت پہلے شکر ادا کرنا چاہئے تھا جبکہ ہمارا موقف پہلے دن سے ہی بڑا واضح ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے سب سے زیادہ باعث اطمینان بات یہ ہے کہ پانامہ پیپرز کا معاملہ سپریم کورٹ سے حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ مسلسل کوشش کرتا رہا اور میں نے بذات خود سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کی درخواست کی۔ ایک قانون بھی تشکیل دیا اور ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن ہماری یہ کوششیں ناکام رہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ اس معاملے کو صرف اور صرف سڑکوں پر اچھالیں۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ کا بڑا کرم ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آچکا ہے جہاں انشاءاﷲ آئین اور قانون کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کے شکر گذار ہیں جنہوں نے سڑکوں پر احتجاج کو مسترد کر دیا۔ انشاءاﷲ فیصلہ میرٹ پر ہوگا، شکرانے ادا کرنے والوں کو بہت پہلے شکر ادا کرنا چاہئے تھا۔ ہمارا موقف پہلے دن ہی سے بڑا واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں چاہے اس پٹیشن کے قابل سماعت ہونے میں کوئی شکوک و شبہات ہوں مگر میں نے اپنے وکلاءکو اس معاملہ پر بحث اور سوال کرنے سے روک دیا ہے اور کہا کہ اس پٹیشن کو ایڈمٹ ہونے دیا جائے۔ الزام لگانے والے شرمندہ ہوں گے۔

Leave a Reply