اسلام آباد ۔ 3 نومبر (اے پی پی) قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی ) کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود ملک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مایوس شخص ہیں، مسلسل شکستوں سے دوچار ہونے کے بعد ان کی یہ مایوسی اب پریشانی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جمعرات کو پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ” فوکس پاکستان“ میں اظہار …
ایسوسی ایٹیڈ پریس آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود ملک کا پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 نومبر (اے پی پی) قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی ) کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود ملک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مایوس شخص ہیں، مسلسل شکستوں سے دوچار ہونے کے بعد ان کی یہ مایوسی اب پریشانی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جمعرات کو پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ” فوکس پاکستان“ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی تقاریر اور بیانات سمیت عمران خان کے تمام ایکشن ان کی پریشانی کو واضح کرتے ہیں، پانامہ پیپرز کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے اور عدالت عظمیٰ میں اس کی سماعت بھی ہو رہی اور دونوں فریقین کے وکلاءبھی پیش ہو رہے ہیں لیکن عمران خان عدالت کے باہر ایک اپنی عدالت لگارہے ہیں جو کسی صورت بھی درست عمل نہیں اور نہ ہی کوئی قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں اور آئین و قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں ایم ڈی ”اے پی پی“ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نظریاتی جماعت نہیں اور اس جماعت نے ایک خاص ماحول میں جنم لیا ہے جسے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے تبدیلی کا نعرہ تو لگایا لیکن تبدیلی لانے میں ناکام رہی، عمران خان کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ اپنے حکومتی صوبے خیبر پختونخوا میں مثالی کام کرتے اور اسے دوسروں کےلئے ایک نمونہ بنا دیتے لیکن وہ اس صوبے میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں اور انہوں نے عوام کے لئے کچھ بھی نہیں کیا، عمران خان کی ناکامی کی ایک اہم وجہ ان کے ایجنڈے میں ترقیاتی منصوبوں کا نہ ہونا بھی ہے۔ مسعود ملک کا کہنا تھا کہ اگرچہ وزیراعظم محمد نوا زشریف کا نام پانامہ پیپرز میں موجود نہیں لیکن پھر بھی انہوں نے خود کو احتساب کےلئے پیش کردیا ہے اور اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک خط بھی لکھ دیا ہوا ہے۔








