میانمارکی فوجی بغاوت 15 ہزار انسانی زندگیاں نگل گئی، اقوام متحدہ

جنیوا۔2فروری (اے پی پی):میانمار میں سول حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوجی نے اقتدار پر قبضہ جمانے کے دوران احتجاج کرنے وا لے 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک کر دیئے گئے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جینوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان روینا شام داسانی نے کہا کہ میانمار میں1500سے زیادہ ہلاکتوں کے علاوہ 11,787 افراد حراست میں لیے گئے جن میں سے 8,792 اب بھی …

جنیوا۔2فروری (اے پی پی):میانمار میں سول حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوجی نے اقتدار پر قبضہ جمانے کے دوران احتجاج کرنے وا لے 1,500 سے زیادہ افراد ہلاک کر دیئے گئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جینوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ترجمان روینا شام داسانی نے کہا کہ میانمار میں1500سے زیادہ ہلاکتوں کے علاوہ 11,787 افراد حراست میں لیے گئے جن میں سے 8,792 اب بھی قید میں ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فوجی حکومت کی مخالفت کر رہے تھے۔

انہوں نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے 200سے زیادہ فوج کی تحویل میں تشدد سے ہلاک ہوئے۔ شام داسانی نے کہا کہ ان میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جو مسلح تصادم میں ہلاک ہوئے ہمارا اندازہ ہے کہ وہ بھی ہزاروں میں ہوں گے۔

واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے گزشتہ برس یکم فروری کو اقتدار پر قبضہ کر کے سول حکومت کی رہنما آنگ سان سوچی اور بہت سے اعلیٰ حکام کو حراست میں لے کر ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے نومبر کے انتخابات میں زبردست دھاندلی کی تھی آنگ سان سوچی پر مختلف مقدمات قائم کر دیے گئے جن میں سے کچھ پر انہیں سزا ہو گئی ہے جبکہ چودہ فروری کو انہیں ایک اورمقدمے کا سامنا ہے جس میں ان پر نئےالزامات عائد کیے گئے ہیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر 2020 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن پر غیر قانونی دباؤ ڈالا تھا۔