دیہی سندھ کے کاشتکار ایس اے جی پی کی مدد سے اپنی آمدنی کو بڑھانے کے قابل ہوگئے ہیں، عالمی بینک

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ دیہی سندھ کے کاشتکار سندھ ایگریکلچر گروتھ پراجیکٹ (ایس اے جی پی) کی مدد سے اب اپنی آمدنی کو بڑھانے کے قابل ہوگئے ہیں ۔ یہ بات پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حسائن نے ٹویٹرپرجاری ٹویٹ اورمنسلکہ آرٹیکل میں کہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے پروڈیوسرزکو مارکیٹ سے بہتر طورپر …

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ دیہی سندھ کے کاشتکار سندھ ایگریکلچر گروتھ پراجیکٹ (ایس اے جی پی) کی مدد سے اب اپنی آمدنی کو بڑھانے کے قابل ہوگئے ہیں ۔ یہ بات پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حسائن نے ٹویٹرپرجاری ٹویٹ اورمنسلکہ آرٹیکل میں کہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے پروڈیوسرزکو مارکیٹ سے بہتر طورپر منسلک کیا جارہاہے۔ سندھ ایگریکلچر گروتھ پراجیکٹ پانچ سال تک چلا جو مئی 2021 میں ختم ہوا۔اس منصوبہ سے دودھ کی مجموعی پیداوار میں 28.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ منصوبہ نے دودھ پیدا کرنے والوں کی آمدنی بڑھانے میں براہ راست کردار ادا کیا۔

پراجیکٹ کے سندھ کے 10 اضلاع میں 153 دودھ پروڈیوسر گروپس قائم کئے گئے جس 19,908 افراد بشمول 8,145 خواتین شامل تھیں۔پراجیکٹ کے تحت استفادہ کنندگان کے لیے 484 لائیو سٹاک مینجمنٹ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ قائم کیے گئے ،

جن میں کسانوں اور سرکاری تربیتی اداروں کے اراکین دونوں شامل تھے، منصوبے کے تحت 121 ویٹرنری یونٹس کی بحالی کی گئی ، اب تک تقریباً 5753 کسان لائیو سٹاک مینجمنٹ کی تربیت سے مستفید ہو چکے ہیں۔