یورپی یونین کے 21 رکن ممالک کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کھلا خط ، انسانی حقوق کے کارکنوں خاص طور سے یو اے پی اے ایکٹ کے تحت جیلوں میں قید کارکنوں کے ساتھ سلوک پر سخت تشویش کا اظہار ، رہائی کا مطالبہ

برسلز ۔10مارچ (اے پی پی):یورپی یونین کے 21 رکن ممالک نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کھلے خط میں انسانی حقوق کے کارکنوں خاص طور سے یو اے پی اے ایکٹ کے تحت جیلوں میں قید کارکنوں کے ساتھ سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ بھارت کے نائب …

برسلز ۔10مارچ (اے پی پی):یورپی یونین کے 21 رکن ممالک نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کھلے خط میں انسانی حقوق کے کارکنوں خاص طور سے یو اے پی اے ایکٹ کے تحت جیلوں میں قید کارکنوں کے ساتھ سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ بھارت کے نائب صدر اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے چیئرپرسن وینکائیا نائیڈو، ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھاو ٹھاکرے، بھارت کے وزیر داخلہ امیت شا، ایوان زیرین لوک سبھا کے سپیکر اوم برلا، بھارت کے چیف جسٹس این وی رامن، ممبئی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دیپنکر دتہ اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن آف انڈیا کے چیئرپرسن ارون کمار مشرا کوبھی مخاطب کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ہم یورپی پارلیمنٹ کے ارکان بھارت میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

ہم نے ان لوگوں کے کیسز کو دیکھا ہے جن کو ان کے پرامن کام کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے قوانین سے نشانہ بنایا گیا، ان کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اوران پر بے جا پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

خط میں بھیما کوریگائوں کیس اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج پر زیر عتاب 28 افراد کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات پر بھارتی حکومت کو پہلے بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔

خط میں 84 سالہ عیسائی پادری ستان سوامی کی دوران حراست موت پر بھی سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔خط میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئے بھارتی حکام کی طرف سے انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے حاضر اور ریٹائرڈ جج صاحبان نے احتجاج کیا ہے ۔

بھارت کی طرف سے مخالفین کے خلاف ڈیجیٹل جاسوسی خاص طور سے اسرائیلی ساختہ جاسوس سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال بھی باعث تشویش ہے۔ خط میں انسانی حقوق کے ممتاز کشمیر کارکن خرم پرویز کی یو اے پی اے کے تحت گرفتاری اور انہیں گندی ترین اور گنجائش سے زیادہ قیدیوں والی جیل میں رکھے جانے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خط میں بھارتی حکومت کو اس بات کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ اس نے ستمبر 2020 کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کی توثیق کر رکھی ہے اس لئے وہ انسانی حقوق کا احترام کرے اور حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے کام کرنے والوں کو جیلوں سے رہا کرے۔

انسانی حقوق سے متعلق یورپی یونین کے رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے ہم دہلی میں یورپی یونین کے وفد اور رکن ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ پیروی کریں گے اور یورپی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کی درخواست کریں گے۔

لہذا ہم زیر دستخطی تمام ہندوستانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اور غیر مشروط طور پر ان تمام لوگوں کو رہا کیا جائے جو بغیر کسی وجہ کے حراست میں ہیں ان کے انسانی حقوق کے کاموں کے بدلے میں خاص طور پر جو بھیما کوریگاؤں کیس میں زیر سماعت ہیں۔

سی اے اے کے خلاف ان کی مہم کا نشانہ بنایا گیا اور خرم پرویز نے ضمانت کے لیے رعایت کے بجائے عدالتی اصول کو برقرار رکھا۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مذکورہ محافظوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 43/173 کے تحت منظور کردہ کسی بھی قسم کی نظر بندی یا قید کے حامل تمام افراد کے تحفظ کے ادارے میں طے شدہ اصولوں پر عمل کیا جائے۔

انسانی حقوق کے محافظوں جیسے یواے پی اے کو خاموش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر غلط استعمال ہونے کے طور پر دستاویزی قانون سازی کو منسوخ یا ان میں ترمیم کریں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ایذا پہنچانے اور جیل بھیجنے اور پرامن اختلاف رائے کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر اس طرح کی قانون سازی کا استعمال بند کیا جائے۔

انسانی حقوق کے محافظوں کی نگرانی کے لیے نیٹ وائر اور پیگاسس جیسے میلویئر کے استعمال کی مکمل چھان بین کریں اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائیں۔

درخواست پر دستخط کرنے والوں میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان میں الوینا المٹیسا،ماریا ارینا،مارگریٹ اوکن،مینول بمپارڈ،سسکیا برکمونٹ،فیبیو کاسٹالڈو، جیکپ دولاندے،اوزلم ڈیمیرل ،الینورا ایوی، کلائوڈ گرفٹ، فرانسسکو گوریریو، اسستا کانکو،ایلس باح کوہنکے،میاپترہ کمپولا نیترے، پیرے لاروٹورو، سارہ میتھیو،ہنا نیومن،گولیانیو پساپیا،آئیون ولیبر سنسک،ارنسٹ ارتاسن،سلیمہ ینبو شامل ہیں۔