شمالی کوریا کے حالیہ تجربات نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹم کے تھے، پینٹا گون

واشنگٹن۔11مارچ (اے پی پی):مریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے 2میزائل تجربات ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹم (آئی سی بی ایم)کے تجربات تھے، جبکہ شمالی کوریا کے مطابق ان تجربات میں جاسوسی سیٹلائٹ کی ترقی پر توجہ دی گئی ۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ 26فروری اور 4مارچ کو کیے …

واشنگٹن۔11مارچ (اے پی پی):مریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے 2میزائل تجربات ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹم (آئی سی بی ایم)کے تجربات تھے، جبکہ شمالی کوریا کے مطابق ان تجربات میں جاسوسی سیٹلائٹ کی ترقی پر توجہ دی گئی ۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ 26فروری اور 4مارچ کو کیے گئے تجربات میں جاسوسی سیٹلائٹ کی تیاری پر توجہ دی گئی

،لیکن دوسری جانب محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات دراصل ممکنہ طور پر مکمل رینج کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سسٹم کے تجربات تھے جس کی نمائش شمالی کوریا نے پہلی بار اکتوبر 2020میں فوجی کے دوران کی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس لانچ نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی ایم بی) کی رینج یا صلاحیت کو ظاہر نہیں کیا لیکن ان کا واضح ارادہ تھا کہ مستقبل میں مکمل رینج پر تجربہ کرنے سے پہلے اس نئے نظام کا جائزہ لیں۔