واشنگٹن۔16مارچ (اے پی پی):عالمی بینک کے سروے کے مطابق افغانستان میں بے روز گاری اور اجرتوں میں کمی کے باعث ایسے افراد کی تعداد دگنی ہو گئی ہےجو خوراک اور دیگر ضروری اشیا خرید نہیں سکتے ۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی بینک نے گزشتہ روز ایک ٹیلی فونک سروے رپورٹ جاری کی جس کا عنوان ’’افغانستان ویلفیئر سروے‘‘ تھا جس میں گزشتہ سال اکتوبر سے دسمبر تک …
افغانستان میں بے روز گاری،اجرتوں میں کمی کے باعث بنیادی خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی ضرورت پوری نہ کرنے والے افراد کی تعداد دگنی ہو گئی، عالمی بینک کی سروے رپورٹ

مزید خبریں
واشنگٹن۔16مارچ (اے پی پی):عالمی بینک کے سروے کے مطابق افغانستان میں بے روز گاری اور اجرتوں میں کمی کے باعث ایسے افراد کی تعداد دگنی ہو گئی ہےجو خوراک اور دیگر ضروری اشیا خرید نہیں سکتے ۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی بینک نے گزشتہ روز ایک ٹیلی فونک سروے رپورٹ جاری کی جس کا عنوان ’’افغانستان ویلفیئر سروے‘‘ تھا جس میں گزشتہ سال اکتوبر سے دسمبر تک کا احاطہ کیا گیا ۔
سروے میں 70فیصد افراد نے کہا کہ ان کے گھر سے سربراہان بنیادی خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی ضرورت پوری نہیں کر سکتے ۔ مئی 2021 میں ایسے افراد کی تعداد 35فیصد تھی جو اکتوبر سے دسمبر تک بڑھ کر دگنی یعنی 70فیصد ہو گئی۔ سروے رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست 2021 کی مدت میں کم معیاری یاسستے کھانے کی طرف جانے والے افغان گھرانوں کا حصہ 56 فیصد سے بڑھ کر 85 فیصد ہو گیا جبکہ تقریباً نصف گھرانوں نے کھانے کے یومیہ استعمال میں کمی کا اظہار کیا،
جو گزشتہ سال جولائی سے اگست تک تقریباً ایک چوتھائی سے زیادہ تھی۔عالمی بینک نے خاص طور پر سرکاری ملازمتوں میں کمی کاحوالہ دیتے ہوئے غربت میں تیزی سے اضافے کی وجہ مجموعی معاشی حالات کو قرار دیا۔سروے کے مطابق افغانستان میں اکتوبر سے دسمبر 2021میں فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی شعبوں اور سرکاری ملازمتوں میں کمی کے باعث گھریلو سربراہان کاکم از کم 5واں حصہ کام کی تلاش میں تھا۔
سروے کے مطابق گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد اکتوبر سے اگست کے دوران لڑکوں کو سکولوں میں بھیجنے کی شرح 63فیصد سے بڑھ کر 73فیصد ہو گئی جبکہ لڑکیوں کو سکول بھیجنے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ،اس مدت میں لڑکیوں کو سکول بھیجنے کی شرح 44فیصد سے بڑھ کر 54فیصد ہو گئی۔








