اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):فروری 2022ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ایس بی پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری کے مقابلہ میں فروری 2022ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ 80 فیصد کم ہوا ہے اور اس دوران خسارہ کا حجم صرف 0.5 ارب ڈالر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2022ء …
فروری 2022ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):فروری 2022ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ایس بی پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری کے مقابلہ میں فروری 2022ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ 80 فیصد کم ہوا ہے اور اس دوران خسارہ کا حجم صرف 0.5 ارب ڈالر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2022ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ کا حجم 2.53 ارب ڈالر رہا تھا تاہم فروری 2022ء کے دوران اس کا حجم 545 ملین ڈالر تک کم ہو گیا۔ دوسری جانب جاری مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ 12.1 ارب ڈالر رہا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق جنوری کے مقابلہ میں فروری کے دوران قومی برآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2022ء میں برآمدات کا حجم 2.5 ارب ڈالر رہا تھا تاہم فروری 2022ء کے دوران قومی برآمدات سے زر مبادلہ کا حصول 2.9 ارب ڈالر تک بڑھ گیا۔ دوسری جانب اسی عرصہ کے دوران درآمدات کا حجم 6.3 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 5.166 ارب ڈالر تک کم ہو گیا۔ ملک کا مجموعی تجارتی خسارہ جنوری 2022ء میں 3 ارب ڈالر تھا جو فروری کے دوران 2.281 ارب ڈالر تک کم ہوا ہے۔ اسی طرح خدمات کے شعبہ کا تجارتی خسارہ 485 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 284 ملین ڈالر تک کم ہو گیا تاہم پرائمری انکم کا خسارہ بھی 504 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 287 ملین ڈالر تک کم ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2022ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2.144 ارب ڈالر کی ترسیلات کی تھیں جو فروری 2022ء کے دوران 2.19 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح گذشتہ مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 18.7 ارب ڈالر رہا تھا جو رواں مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران 20.14 ارب ڈالر تک بڑھا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر نے بھی کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں نمایاں کمی کو اچھی خبر قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ 15 سال میں قومی معیشت کی شرح نمو میں مسلسل دوسرے سال پانچ فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔








