تنکسی۔31مارچ (اے پی پی):افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزراء خارجہ نے افغانستان میں قومی مفاہمت اور خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک چین، پاکستان، ایران، روس، تاجکستا، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزراء خارجہ کے تیسرے اجلاس میں کیا گیا جو چین کے صوبہ انہوئی کے شہر تنکسی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں مذکورہ ممالک کے وزراء …
افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزراء خارجہ کا افغانستان میں قومی مفاہمت اور خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے اقدامات کا مطالبہ

مزید خبریں
تنکسی۔31مارچ (اے پی پی):افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزراء خارجہ نے افغانستان میں قومی مفاہمت اور خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک چین، پاکستان، ایران، روس، تاجکستا، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزراء خارجہ کے تیسرے اجلاس میں کیا گیا جو چین کے صوبہ انہوئی کے شہر تنکسی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں مذکورہ ممالک کے وزراء خارجہ اور اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے افغانستان پر ایک جامع اور وسیع البنیاد سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے ، اعتدال پر مبنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تشکیل دینے اور تمام ممالک خاص طور سے ہمسایہ ممالک سے دوستا نہ تعلقات استوار کرنے پر زور دیا۔
شرکاء نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ مذکورہ مقاصد کے حصول کے لئے افغان حکومت سے قریبی روابط استوار کریں۔
اجلاس میں افغان عوام کے لئے روزگارکے ذرائع کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنے اور خواتین ، بچوں مختلف لسانی گروہوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس کے لئے تہنیتی پیغام ارسال کیا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے وڈیو لنک کے ذریعے مختصر خطاب کیا۔
اجلاس کے شرکاء نے افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور افغان عوام کے اتحاد یکجہتی کے احترام کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افغان عوام کی حمایت اور افغانوں کی قیادت میں ان کے اپنے کے اصول کی پاسداری کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے افغان عوام کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ممالک سے افغانستان کی معیشت کی بحالی اور ملکی ترقی کے لئے اپنے وعدے پورے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔شرکاء نے افغانستان کے لئے امدادی سرگرمیوں کو سیاست کی نذر کنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرنے کا عزم ظاہر کیا اور وہاں موجود انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور اس کے مختلف اداروں کی طرف سے افغانستان کے لئے امدادی سرگرمیوں کو سراہا اور سلامتی کونسل سے افغانستان کے لئے ہنگامی امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے افغانستان کے لئے طبی امداد خاص طور سے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے امداد کی فراہمی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ جیسے پروگراموں اور علاقائی تنظیموں میں افغانستان سے تعاون کو بہتر بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
انہوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ افغان کی موجودہ حکومت نے اپنے ملک کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کی اجازت نہ دینے کے عزم کیا ہے ۔ شرکاء نے دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کی بھی سختی سے مذمت کی۔








