بیجنگ۔11اپریل (اے پی پی):چین اور پاکستان کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال سے چین اور پاکستان کے درمیان قائم مضبوط تعلقات متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ دوطرفہ تعلقات کا تحفظ اور فروغ پاکستان کی تمام جماعتوں اور تمام گروہوں کا مشترکہ اتفاق ہے۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق تجزیہ کاروں نے کہا کہ سی پیک اور بی آر آئی کے ساتھ ساتھ …
پاکستان میں بدلتی سیاسی صورتحال سے پاک چین تعلقات متاثر نہیں ہوں گے ،چینی اخبارگلوبل ٹائمز

مزید خبریں
بیجنگ۔11اپریل (اے پی پی):چین اور پاکستان کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال سے چین اور پاکستان کے درمیان قائم مضبوط تعلقات متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ دوطرفہ تعلقات کا تحفظ اور فروغ پاکستان کی تمام جماعتوں اور تمام گروہوں کا مشترکہ اتفاق ہے۔
چینی اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق تجزیہ کاروں نے کہا کہ سی پیک اور بی آر آئی کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی اور کورونا وائرس کے خلاف جنگ سمیت دیگر شعبوں میں چین پاکستان تعاون پاکستان میں موجودہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اہم ہیں۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین پاکستان کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتماد، معتبر طاقتور اور بے بدل شراکت دار ہے۔
سنگ ہوا یونیورسٹی کے نیشنل سٹڑیٹجی انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ تحقیق کے ڈائریکٹر چیان فینگ نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ اندرونی مسائل کا چین کے ساتھ مضبوط تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے اس کا پاک چین تعاون پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
چین پاکستان تعلقات کے ماہر رانا علی قیصر خان نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ چین پاکستان کا سدا بہار دوست ملک ہے اس لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان حکومت کی قیادت کس کے پاس ہے لہذا اس سے چین کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ فروری میں چین کی جانب سے پاکستان کو جے۔10سی لڑاکا طیاروں کی برآمد سے پاکستان ایئر فورس کی دفاعی صلاحیتوں میں بہت بہتری آئی ہے۔
فوڈان یونیورسٹی کے پروفیسر من وانگ نے کہا کہ چین کے پاکستان میں فوج اور تمام سیاسی جماعتوں چاہے وہ اقتدار میں ہیں یا نہیں ، کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ چین نے کبھی بھی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی اور چین کی پاکستان کے ساتھ سدا بہار سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی وجہ یہ ہے کہ چین پاکستان کے اندرونی معاملات سے دور رہتا ہےاور اقتدار میں آنے والی تمام جماعتوں کے ساتھ یکساں طور پر پیش آتا ہے ۔








