واشنگٹن۔12اپریل (اے پی پی):امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارتی وزرا کے ہمرا ہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت بھارت میں ہونے والی ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے‘ کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاہم بھارتی وزرا نے اس پر کسی بھی تبصرے سے گریز کیا ۔ امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الہان عمر نے چند روز قبل ہی انسانی حقوق کے حوالے سے نریندر …
بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ کی بھارتی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس، بھارتی وزرا کا تبصرے سے گریز

مزید خبریں
واشنگٹن۔12اپریل (اے پی پی):امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارتی وزرا کے ہمرا ہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت بھارت میں ہونے والی ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے‘ کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاہم بھارتی وزرا نے اس پر کسی بھی تبصرے سے گریز کیا ۔
امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الہان عمر نے چند روز قبل ہی انسانی حقوق کے حوالے سے نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرنے میں امریکی حکومت کی ہچکچاہٹ پر سوال اٹھا یا تھا، جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق انہوں نے واشنگٹن میں بھارتی وزراکے ساتھ ہونے والی ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکا بھارت میں بعض عہدیداروں کے ذریعے کی جانے والی’’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘‘ پر اپنی نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری اقدار اور انسانی حقوق جیسی مشترکہ اقدار پر اپنے بھارتی شراکت داروں کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کرتے رہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے ہم بھارت میں ہونے والی ایسی بعض حالیہ پیش رفتوں کی نگرانی کر رہے ہیں جن میں بعض حکومتی، پولیس اور جیل حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان اہم مسائل کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کلیدی پہلو ہیں جن پر بھارت کے ساتھ بات چيت ہوئی ہے اور ان پر تعاون کے لیے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، ان کے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی موجود تھے۔ بھارتی وفد نے انٹونی بلنکن کے بیان کے بعد بات کی تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔بھارت اور امریکا کے درمیان وزارتی سطح کے ‘ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ‘ کا یہ چوتھا مرحلہ ہے، جس کے لیے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر امریکا کے دورے پر ہیں۔
ان مذاکرات کے بعد ہی اس مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گيا تھا۔ان مذاکرات سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان آن لائن ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے یوکرین پر روسی حملے سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹ رکن الہان عمر نے بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے پہلے کہ ہم انہیں امن میں اپنا شراکت دار سمجھنا چھوڑ دیں، یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ آخر مودی کو بھارت کی مسلم آبادی کے ساتھ کیا سلوک کرنے کی ضرورت ہے؟۔








