دنیا بھر میں گزشتہ سال کے آخر تک 36.5 ملین بچے تنازعات، تشدد اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے ، یونیسف

اقوام متحدہ۔ 17جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال(یونیسف) نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے آخر تک 36.5 ملین بچے تنازعات، تشدد اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ چینی خبر رساں ادارے نے یونیسف کے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 13.7 ملین بچے پناہ کے متلاشی اور تقریباً 22.8 ملین تنازعات …

اقوام متحدہ۔ 17جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال(یونیسف) نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے آخر تک 36.5 ملین بچے تنازعات، تشدد اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

چینی خبر رساں ادارے نے یونیسف کے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 13.7 ملین بچے پناہ کے متلاشی اور تقریباً 22.8 ملین تنازعات اور تشدد کی وجہ سے اندرونی طور پر بے گھر ہوئے ہیں جس میں گزشتہ سال 2.2 ملین کا اضافہ ہوگیاہے۔ حکام نے کہا کہ روس،یوکرین،افغانستان،جمہوری جمہوریہ کانگو اوریمن جیسے ممالک میں یہ شدید اور طویل تنازعات،بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا نتیجہ ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ان تمام پناہ گزین اور بے گھر بچوں میں سے صرف نصف کا داخلہ پرائمری سکولوں جبکہ ایک چوتھائی سے بھی کم نوعمر سیکنڈری سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بے گھر اور پناہ گزین بچوں کی ایک ریکارڈ تعداد کو صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور تحفظ جیسی امداد اور خدمات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ان بے گھر بچوں کو سمگلنگ، استحصال، تشدد اور بدسلوکی کا سامنا ہے اور عالمی سطح پر انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والے بچوں میں سے تقریبا 28 فیصد بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں یہ بے سہارا اور بے گھر ہونے والے بچے موجود ہیں وہ ان کی تعلیم، تحفظ، بنیادی حقوق اور دیگر اہم انسانی خدمات کو یقینی بنائیں۔

مزید خبریں