کامسیٹس یونیورسٹی، اسلام آباد کے چائنہ سٹڈی سینٹر کی جانب سے چین کی سنکیانگ پالیسی پر مکالمے کا انعقاد

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی، اسلام آباد کے چائنہ اسٹڈی سینٹر کی جانب سے چین کی سنکیانگ پالیسی پر ایک مکالمے کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی سیشن کا آغاز کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے کیمپس ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شمس القمر کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا جنہوں نے تمام مقررین اور گفتگو کرنے والوں کو ڈائیلاگ میں خوش آمدید کہا اور اس طرح کی تقریبات کے انعقاد میں چینی سفارتخانہ …

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی، اسلام آباد کے چائنہ اسٹڈی سینٹر کی جانب سے چین کی سنکیانگ پالیسی پر ایک مکالمے کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی سیشن کا آغاز کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے کیمپس ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شمس القمر کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا جنہوں نے تمام مقررین اور گفتگو کرنے والوں کو ڈائیلاگ میں خوش آمدید کہا اور اس طرح کی تقریبات کے انعقاد میں چینی سفارتخانہ کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی دونوں ممالک کی جڑوں میں گہرائی تک پیوست ہے۔ انہوں نے فیکلٹی اور سابق طلباء کے بارے میں ایک مختصر تعارف پیش کیا جو چینی اکیڈمیا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور چین کی معروف یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین کے سفارتخانہ کے فرسٹ سیکرٹری مسٹر وانگ شینگ جی نے سنکیانگ کے معاملے پر چین کے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے سنکیانگ کو ایک شاندار سرزمین قرار دیتے ہوئے اس کی خوبصورتی اور ثقافتی خوشحالی کے بارے میں بات کی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کی وجہ سے بہت سے ممالک نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبروں کا پھیلاؤ ہے جس سے عام لوگوں میں خوف و ہراس اور افراتفری پھیلتی ہے۔ دہشت گردی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو ملٹری کمپلیکس ہیں۔

انہوں نے معین الحق، مشاہد حسین سید اور ظفرالدین محمود کے کچھ اقتباسات کا ذکر کیا جہاں انہوں نے سنکیانگ کو خوبصورتی اور امن کی سرزمین قرار دیا جو کہ 2010 اور 2018 کے درمیان ایغور آبادی میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی تجزیہ کارگروپ کیپٹن (ریٹائرڈ) سلطان محمود حالی نے بھی سنکیانگ موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنکیانگ 1974 میں انتہائی خراب حالت میں تھا لیکن یہ موجودہ وقت میں نیویارک سے بھی زیادہ خوبصورت اور خوشحال ہے۔ سنکیانگ کی جی ڈی پی 2020 میں 1.38 ٹریلین ریکارڈ کی گئی ہے جس میں بڑے ہائی سپیڈ ریل پروجیکٹس اور 21 سے زیادہ ہوائی اڈے ہیں۔