اقوام متحدہ نے سوڈان میں انسانی المیے کے حوالے سے اپنے انتباہ کو دہرایا ہے
کردفان میں سزائے موت، تشدد اور جنسی تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔4جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے سوڈان میں انسانی المیے کے حوالے سے اپنے انتباہ کو دہرایا ہے، جہاں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان خاص طور پر کردفان کے صوبوں میں جنگ جاری ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے واضح کیا کہ سوڈان میں انسانی حقوق کا ایک اور المیہ جنم لے رہا ہے، اس بار شمالی کردفان کے صوبے کے دارالحکومت الابیض میں، انہوں نے عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ٹرک نے مزید کہا کہ "الابیض سے آنے والے اشارے واضح ہیں، ایک نیا المیہ جنم لے رہا ہے۔دوسری جانب، فیکٹ فائنڈنگ مشن نے تصدیق کی کہ اس نے پورے کردفان میں فوری سزائے موت، تشدد اور جنسی تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ مشن نے زور دیا کہ سوڈان کے علاقوں زمزم اور الفاشر میں گذشتہ سال پیش آنے والے بڑے پیمانے پر مظالم کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔مزید برآں اقوام متحدہ نے نیم فوجی دستوں پر دباؤ ڈالنے پر زور دیا تاکہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔ مشن نے واضح کیا کہ الابیض میں صاف پانی کی کمی سنگین حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شمالی کردفان میں شہری 18 ماہ سے مسلسل ڈرون حملوں کے درمیان محاصرے جیسی صورتحال کا شکار ہیں۔







