آئندہ مہینوں میں شدید موسمی واقعات کا خطرہ بڑھ گیا ہے ، ڈبلیو ایم او کا انتباہ

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیوایم او)نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے

جنیوا ۔4جولائی (اے پی پی):عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیوایم او) نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے، جس کے باعث آئندہ چند مہینوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، خشک سالی، موسلا دھار بارشوں اور دیگر انتہائی موسمی واقعات کے امکانات بڑھ جائیں گے۔شنہوا کے مطابق ڈبلیو ایم او کی تازہ گلوبل سیزنل کلائمیٹ اپ ڈکے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ایل نینو ایک طاقتور موسمی مظہر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی مراکز کے ماڈلز کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے2 ڈگری سینٹی گریڈسے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔تنظیم کے مطابق مختلف موسمیاتی ماڈلز کے نتائج میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جس سے پیش گوئی پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔ شمالی نصف کرے کے موسمِ خزاں کے دوران ایل نینو مزید شدت اختیار کرے گا اور اس کے اثرات دنیا کے کئی خطوں تک پھیلیں گے، جبکہ استوائی بحرِ اوقیانوس بھی معمول سے زیادہ گرم رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 60 درجے جنوبی سے 60 درجے شمالی رض بلد کے درمیان واقع بیشتر زمینی علاقوں، جہاں دنیا کی بڑی آبادی آباد ہے، میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا قوی امکان ہے۔بارشوں کے حوالے سے پیش گوئی کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں، جبکہ **بحرِ ہند کے بعض حصوں، برصغیر اور آسٹریلیا کے بیشتر علاقوں** میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو ہردو سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ یہ اکثر مارچ سے جون کے درمیان تشکیل پانا شروع ہوتا ہے، نومبر سے فروری کے دوران اپنی شدت کی بلند ترین سطح پر پہنچتا ہے، جبکہ عالمی درجہ حرارت پر اس کے نمایاں اثرات اگلے سال زیادہ واضح ہوتے ہیں۔عالمی موسمیاتی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ممالک کو بروقت معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے تاکہ ایل نینو کے ممکنہ اثرات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔