چین کی معروف سنگھوا یونیورسٹی میں ہفتہ کو گریجویٹ کانووکیشن تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہزاروں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو ماسٹرز اورڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تفویض کی گئیں
سنگھوا یونیورسٹی کی 2026 گریجویٹ کانووکیشن، طلبہ کو قومی ترقی اور انسانیت کی خدمت کا پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):چین کی معروف سنگھوا یونیورسٹی میں ہفتہ کو گریجویٹ کانووکیشن تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہزاروں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو ماسٹرز اورڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ تقریب میں یونیورسٹی کی قیادت نے طلبہ کو جدت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ ملک اور انسانیت کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے نائب صدر اور پرووسٹ پینگ گانگ نے کی جنہوں نے 2026 کے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی گریجویشن اور ڈگریوں کے اجرا کا باضابطہ اعلان کیا۔سنگھوا یونیورسٹی کی سی پی سی کمیٹی کے سیکرٹری چیو یونگ نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کے طلبہ کو اعزازات دینے کا اعلان کرتے ہوئے تمام فارغ التحصیل طلبہ کومبارکباد دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے دور میں نوجوان آزادانہ سوچ، مضبوط اخلاقی اقدار اور ذمہ دارانہ فیصلوں کو اپنا شعار بنائیں اور چین کی قومی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔سنگھوا یونیورسٹی کے صدر لی لومنگ نے اپنے خطاب میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ بلند مقاصد اپنائیں، مشکلات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کریں، جدت طرازی کو فروغ دیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک، عوام اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کریں۔تقریب سے سابق طالب علم اور چائنا انسٹی ٹیوٹ فار ریڈی ایشن پروٹیکشن کے چیف انجینئر ژاؤ ری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے طلبہ کو اعتماد، صبر اور مسلسل محنت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مستقل مزاجی ہی بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔گریجویٹنگ کلاس کی نمائندگی کرتے ہوئے سکول آف سافٹ ویئر کی طالبہ ژو زیہان نے کہا کہ سنگھوا یونیورسٹی میں تحقیق کے تجربے نے ان کے اندر وطن کی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط کیا ہےاور وہ اپنی صلاحیتیں ان شعبوں کے لیے وقف کریں گی جہاں ملک کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔تقریب میں پاکستان سے چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر کے ریسرچ فیلو محمد ضمیر اسدی نے بھی اپنی ڈگری حاصل کی۔ کانووکیشن تقریب کو یونیورسٹی کے "رین کلاس روم” پلیٹ فارم کے ذریعے چینی اور انگریزی زبانوں میں براہِ راست نشر کیا گیا، جبکہ بعد ازاں یونیورسٹی کے جمنازیم میں ڈگریوں کی باضابطہ تقسیم کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔







