اے پی پی اور چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کا اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں کی مشترکہ کوریج پر اتفاق، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی آر آئی ہو بانگ شینگ کی سربراہی میں 7 رکنی وفد کا اے پی پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دونوں اداروں کا خبروں کے تبادلے کا بھی فیصلہ

اے پی پی اور چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کا اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں کی مشترکہ کوریج پر اتفاق، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی آر آئی ہو بانگ شینگ کی سربراہی میں 7 رکنی وفد کا اے پی پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دونوں اداروں کا خبروں کے تبادلے کا بھی فیصلہ اسلام آباد ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) قومی خبر رساں ایجنسی ”ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان“ اور چینی ریڈیو …

اے پی پی اور چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کا اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں کی مشترکہ کوریج پر اتفاق، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی آر آئی ہو بانگ شینگ کی سربراہی میں 7 رکنی وفد کا اے پی پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دونوں اداروں کا خبروں کے تبادلے کا بھی فیصلہ

اسلام آباد ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) قومی خبر رساں ایجنسی ”ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان“ اور چینی ریڈیو ”چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل“ (سی آر آئی) نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں کی مشترکہ کوریج پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے بدھ کو یہاں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی آر آئی ہو بانگ شینگ کی سربراہی میں سی آر آئی کے 7 رکنی وفد کے اے پی پی ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران طے پایا۔اس موقع پر فریقین نے خبروں کے تبادلے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے منیجنگ ڈائریکٹر اے پی پی مسعود ملک نے وفد کو سرکاری خبررساں ادارے کی ملک و بیرون ملک ایڈیٹوریل سیٹ اپ اور پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ چینی وفد میں ڈائریکٹر سی آر آئی اسلام آباد چن شیانگ(شاہین)، بیورو چیف سی آر آئی وانگ چی، سی آر آئی کے جنوب مشرقی ایشیاءڈویژن کے سربراہ آن شیاﺅ یو، سی آر آئی کے جنوب مشرقی ایشیاءڈویژن کے ڈپٹی ہیڈ ژاﺅ چیاﺅ، نیوز سنٹر سی آر آئی کے ڈپٹی ہیڈ گوان ژوآن ژوآن اور انٹرنیشنل کوآپریشن اینڈ ایکسچینج سنٹر سی آر آئی کے لوئی ہوان شنگ شامل تھے۔ منیجنگ ڈائریکٹڑ مسود ملک کی قیادت میں اے پی پی کے وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر سہیل علی خان، ڈائریکٹر نیوز محمد نعیم چوہدری اور ڈائریکٹر آئی ٹی محمد غواث خان شامل تھے۔ دونوں اداروں کے حکام نے ایک دوسرے کے صحافتی تجربات سے استفادہ کرنے کے علاوہ دونوں اداروں کے ادارتی عملے کی استعداد کار میں اضافے اور تربیت کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply