تاجکستان میں6.8 شدت کا زلزلہ،آفٹر شاکس ، ڈیم ٹوٹنے کا خدشہ

دوشنبے۔23فروری (اے پی پی):تاجکستان میں 6.8شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئےجس کے باعث زلزلے والے علاقےمیں ڈیم ٹوٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےتاہم فوری طور کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے نے امریکی جیالوجیکل سروے کے حوالے سے بتایا کہ تاجکستان کے مشرقی صوبہ گورنو بدخشاں کے ضلع مورغوب میں جمعرات کی صبح 6.8درجہ شدت کے زلزلے کے جھٹکے …

دوشنبے۔23فروری (اے پی پی):تاجکستان میں 6.8شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئےجس کے باعث زلزلے والے علاقےمیں ڈیم ٹوٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےتاہم فوری طور کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے نے امریکی جیالوجیکل سروے کے حوالے سے بتایا کہ تاجکستان کے مشرقی صوبہ گورنو بدخشاں کے ضلع مورغوب میں جمعرات کی صبح 6.8درجہ شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جو 20.5کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ ابتدائی زلزلے کے 20منٹ کے بعد 5اور 4.6درجہ شدت کے آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے ۔

چائنہ سینٹرل ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) نے چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سنٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز چین کی سرحد سے قریب ترین مقام سے 82 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور اسے چینی صوبے سنکیانگ کے مغربی جانب کاشغر اور ارتش شہروں میں بھی محسوس کیا گیا۔ زلزلے کی زد میں آنے والے علاقے میں گنجان آبادی نہیں ہے۔ تاہم اس علاقے میں جھیل ساریز ہے جس کےبند ٹوٹنے کا خدشہ ہے اور اسی بنا پر بہت سے ممالک میں بڑے علاقوں کو سیلاب کا خطرہ ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زلزلے کے نتیجے میں انتہائی کم آبادی کو لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ساریز جھیل تاجکستان کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ جھیل ساریز کے پیچھے پامیر پہاڑوں کے مرکز میں ایک قدرتی ڈیم ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ڈیم ٹوٹ گیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔