چین ہر مشکل دور میں پاکستان کی مدد کرتا ہے، سی پیک کے تحت چین نے پا کستان میں اربوں ڈالرز کی سر ما یہ کا ری کی، مہیش کمار ملانی

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن مہیش کمار ملانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مثالی دوستی کا رشتہ موجود ہے، چین ہر مشکل دور میں پاکستان کی مدد کرتا ہے، سی پیک کے تحت چین نے پا کستان میں اربوں ڈالرز کی سر ما یہ کا ری کی، تھر کے سکولوں میں چینی زبان پڑھائی جارہی ہے، تھر میں سی …

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن مہیش کمار ملانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مثالی دوستی کا رشتہ موجود ہے، چین ہر مشکل دور میں پاکستان کی مدد کرتا ہے، سی پیک کے تحت چین نے پا کستان میں اربوں ڈالرز کی سر ما یہ کا ری کی، تھر کے سکولوں میں چینی زبان پڑھائی جارہی ہے، تھر میں سی پیک کی وجہ سے بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے، ان خیالات کااظہارانہوں نےبیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی دسویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ چین ہر مشکل دور میں پاکستان کی مدد کرتا ہے، خاص طور پر کووڈ ۔19کے دنوں میں چین نے پاکستان کی شاندار انداز میں مدد کی۔ اسی طرح گزشتہ سال جب ہم سیلابی صورتحال کا سامنا کر رہے تھے تو چین نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔پاکستان کو ان دنوں شدید معاشی بحران کا سامنا رہا ہے ، اس میں بھی چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہاکہ چین نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ترقی کی جو منازل طے کی ہیں وہ نہایت قابل تعریف ہیں۔ چین کی ترقی کے ثمرات ملک کے طول عرض میں تمام عوام کے درمیان برابر تقسیم ہورہے ہیں ،یہی حقیقی ترقی ہے۔

رمیش کمار ملانی نے کہاکہ چین کی یہ خوبی ہے کہ یہ جیت جیت تعاون کے تحت تمام بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کی خواہش رکھتا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اس کی ایک اہم مثال ہے۔ چین پاک اقتصادری راہدری بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت ایک مثالی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں چین نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کے حلقہ انتخاب تھر میں سی پیک کی وجہ سے بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ تھر کا کوئلہ آج” بلیک گولڈ” کہلاتا ہےلوگوں کو روزگار ، صحت اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر آئے ہیں ۔

خواتین کو ترقی میں برابر کا حصہ ملا ہے۔ یہ سی پیک کی بدولت ہی ہے کہ تھر میں خواتین اس وقت ڈمپرگاڑیاں تک چلا رہی ہیں۔ وزیر مملکت نے کہاکہ اس وقت تھر میں سکولوں میں چینی زبان پڑھائی جارہی ہے۔ چینی زبان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ تھر میں عام لوگ بھی چینی زبان بولنا سیکھ رہے ہیں۔ آج تھر کے لوگ بہت زیادہ باشعور ہو چکے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ چینی ثقافت اور چینی زبان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔