بحیرہ کیریبین کے جزیرے پرمقیم سینکڑوں افراد سطح سمندر بلند ہونے کے باعث نقل مکانی پر مجبور

اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):بحیرہ کیریبین کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہنے والے سینکڑوں افراد سطح سمندر بلند ہونے کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق پانامہ کے شمال میں واقع کارتی سگتوپو نامی گنجان آباد جزیرہ ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس جزیرے کی مقامی کمیونٹی 2 ہزار سے کم افراد پر مشتمل ہے جو پینے کے پانی اور سینی …

اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):بحیرہ کیریبین کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہنے والے سینکڑوں افراد سطح سمندر بلند ہونے کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق پانامہ کے شمال میں واقع کارتی سگتوپو نامی گنجان آباد جزیرہ ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

اس جزیرے کی مقامی کمیونٹی 2 ہزار سے کم افراد پر مشتمل ہے جو پینے کے پانی اور سینی ٹیشن جیسی سہولیات کے بغیر ہی گزر بسر کرتی ہے۔ان کی زندگی کا دار و مدار ماہی گیری، چند فصلوں، روایتی صنعتی مصنوعات اور کچھ حد تک سیاحت پر رہتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں صدی کے آخر تک کارتی سگتوپو سمیت درجنوں کی تعداد میں قریبی جزیرے ڈوب جائیں گے۔ ان میں سے 49 جزیرے آباد ہیں جبکہ باقی سطح سمندر سے چند فٹ ہی بلند ہیں۔ کارتی سگتوپو جزیرے کی 73 سالہ خاتون مگدالینا مارٹینز نے بتایا کہ سمندر کی لہریں اب اونچی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ڈوبنے لگے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ ایسا ہوگا۔

پانامہ میں قائم ایک ٹروپکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان سٹیون پیٹن کا کہنا ہے کہ سطح سمند بلند ہونے کی وجہ سے تمام جزیرے ویران ہو جائیں گے۔کارتی سگتوپو جزیرے پر پینے کا پانی میسر نہ ہونے کے باعث کشتیوں میں سفر کر کے کسی مرکزی علاقے سے خرید کر لانا پڑتا ہے۔بجلی کی سہولت بھی چند خاندانوں کو ہی میسر ہے۔ اکثر گھروں کو پبلک جنریٹر کے ذریعے چند گھنٹوں کے لیے بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ چند دیگر گھر سولر پینلز کا استعمال کرتے ہیں۔جبکہ کسی گھر میں بھی ذاتی ٹوائلٹ موجود نہیں۔ اس مقصد کے لیے سمندر کے قریب ایک جگہ مختص کی گئی ہے جسے یہاں رہنے والا ہر شخص استعمال کرتا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سیلابوں اور طوفانوں سے جزیرے پر رہنے والے افراد کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے جس سے رہائش، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں متاثر ہوئی ہے۔