قازخستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت، سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون میں ہر سال توسیع ہورہی ہے، قازخستان کےسفیر کی قازخستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں قازخستان کے سفیر یرژان کستافین نے کہا ہے کہ قازخستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت ہر سال مستحکم اور مضبوط ہو رہی ہے، بینکنگ سیکٹر میں دوطرفہ تعلقات میں تیزی سے بہتری کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوںکے درمیان سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے اور قازخستان کی جامعات میں پاکستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ اس کا مظہر …

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں قازخستان کے سفیر یرژان کستافین نے کہا ہے کہ قازخستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت ہر سال مستحکم اور مضبوط ہو رہی ہے، بینکنگ سیکٹر میں دوطرفہ تعلقات میں تیزی سے بہتری کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوںکے درمیان سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے اور قازخستان کی جامعات میں پاکستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ اس کا مظہر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قازخستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک قازخستان اور پاکستان کے درمیان 30 سالہ شاندار دوستی، امن اور ہم آہنگی کا جشن منا رہے ہیں۔

قازخستان کے سفیر نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں کے دوران، دونوں ممالک نے سیاسی روابط، تجارت، معیشت، ثقافت اور انسانی ہمدردی کے تعاون سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات قائم اور مضبوط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی پیداوار کے شعبے میں تعاون کے مثبت تقویت مل رہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے عمل کو آگے بڑھانے والے کلیدی عوامل میں بین الحکومتی کمیشن اجلاس، بزنس کونسلز، بزنس فورمز اور کاروباری وفود کے باہمی تبادلے شامل ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الپارلیمانی بات چیت کے عمل میں تعاون بالخصوص قانون ساز اسمبلیوں کے ایوانوں میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ کثیرالجہتی تعاون کے فروغ میں بھی خاطر خواہ دلچسپی پیدا کر رہا ہے۔ سفیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قانون سازی کی سطح پر اس طرح کی بات چیت دونوں حکومتوں کے درمیان زیرغور امورکو نمایاں طور پر آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے 2022 میں قازخستان کے صدر قاسم جومارٹ توکایوف اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان متواتر ملاقاتوں کو اعادہ کیا جس سے یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم 2023 کے موقع پر قازخستان کے صدر اور پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس نئے معاہدے سے دوطرفہ تعاون کو مضبوط اور وسعت دینے کے لیے اضافی مراعات کی توقع ہیں ۔ قازخستان کے سفیر یرژان کستافین نے پاکستان کے ساتھ کثیر جہتی تعاون کو فروغ دینے پر قازخستان کی خصوصی دلچسپی کی اہمیت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے موسم گرما کے دوران براہ راست پروازوں کے آغاز کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت پہلے ہی کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنی ہے، پاکستانی اور قازق تاجروں کے درمیان تعاون کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

قازخستان کے صدر قاسم جومارت توکائیوف نے ٹرانزٹ اور لاجسٹک صلاحیتوں کو فروغ دینے کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اعلی صلاحیتوں پر مسلسل زور دیا ہے۔ قازخستان کے عوام سے اپنے سالانہ خطاب میں انہوں نے جنوبی ایشیا میں قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اس وژن میں شمالی۔جنوبی روٹ کے ساتھ بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور کی ترقی شامل ہے، جس سے قازخستان کو کراچی اور گوادر میں پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی کی فراہمی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ یہ راہداری دو طرفہ ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔

سفیر نے کہا کہ قازخستان اور پاکستان موجودہ عالمی، سیاسی امور پر قریبی یا یکساں موقف رکھتے ہیں۔ یہ موقف مختلف بین الاقوامی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ، او آئی سی، سی آئی سی اے، ایس سی او اور ای سی او کے اندر موثر بین ریاستی تعاون کو بنیادفراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم کامیابی پر بھی روشنی ڈالی اور قازخستان انسانی حقوق کے کمشنر کے بین الاقوامی علاقائی ڈھانچے میں شمولیت، ایشین اومبڈسمین ایسوسی ایشن، پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ قازخستان اور پاکستان کے درمیان کثیرالجہتی فارمیٹ میں قریبی تعلقات استوار کرنے سے یوریشین براعظم میں وسطی اور جنوبی ایشیا کی پوزیشن اور کردار کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی۔