جلد بازی یا مختلف مراحل میں اقدامات سلامتی کونسل کو وسعت دینے کے عمل میں کسی متفقہ نتیجے تک پہنچنے کی کوششوں میں خلل ڈالیں گے، پاکستان

اقوام متحدہ۔14دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق موجودہ بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این) کو "بہترین پلیٹ فارم" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں کسی بھی جلد بازی یا مختلف مراحل میں اقدامات 15 رکنی سلامتی کونسل کو وسعت دینے کے عمل میں کسی متفقہ نتیجے تک پہنچنے کی کوششوں میں خلل ڈالیں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے …

اقوام متحدہ۔14دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق موجودہ بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این) کو "بہترین پلیٹ فارم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں کسی بھی جلد بازی یا مختلف مراحل میں اقدامات 15 رکنی سلامتی کونسل کو وسعت دینے کے عمل میں کسی متفقہ نتیجے تک پہنچنے کی کوششوں میں خلل ڈالیں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان اقبال جدون نے سلامتی کونسل کی تنظیم نو کے لیے طویل عرصے سے جاری مذاکرات دوبارہ شروع ہونے پر مندوبین سے خطاب میں کہا کہ سلامتی کونسل میں توسیع کے کسی بھی نئے عمل کو از سر نو شروع کرنا ہو گا اوراس میں انہی چیلنجوں کا سامنا کرنا ہو گا جن کا سامنا اس مقصد کے لئے بین الحکومتی مذاکرات میں ا س سے پہلے کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کی طرف سے اس موقف کا اعادہ توسیع شدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل گروپ آف فور کے نئے دباؤ کے نئے دبائو کے پس منظر میں کیا گیا ہے ۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ صرف تحمل اور بردباری کےساتھ تبادلہ خیال، ایک دوسرے کے موقف کو قبو ل اوراپنے موقف پر سمجھوتے کر کے ہی ہم م آہنگی کو وسعت اور انحراف کو کم کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح اصلاحات کے لئے ایک ایسا ماڈل تیار کر سکتے ہیں جو رکن ممالک کی وسیع تر ممکنہ اکثریت کے لئے قابل قبول ہو۔

انہوں نے کہا ہم سب سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، زیادہ جمہوری، زیادہ شفاف، زیادہ موثر اور زیادہ جوابدہ دیکھنا چاہیتے ہیں اور یہ مقصد صرف جامع اصلاحات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے جو تمام رکن ممالک خواہ وہ چھوٹے ہوں ، درمیانے یا بڑے کے مفادات کو مدنظررکھ سکے۔ مختلف گروپوں اور رکن ممالک کی طرف سے تجویز کردہ اصلاحات کےماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اصلاحات کے عمل کو ‘ماڈلز’ پر غیر متناسب توجہ کی طرف بڑھانے کے لیے کوئی بھی مصنوعی اقدام فریقوں کے موقف میں تفاوت پیدا کرنے اور رکن ممالک کو مزید تقسیم کرنے کا امکان پیدا کرے گا اور معنی خیز نتیجہ کے امکانات کو مزید پیچیدہ کر دے گا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ یو ایف سی کا خیال ہے کہ مزید مستقل ارکان کو شامل کرنے سے سلامتی کونسل مفلوج ہو جائے گی ، اور اقوام متحدہ کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی ریاستوں کی اکثریت کی نمائندگی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔طویل مدتی منتخب نشستوں کے لیے یو ایف سی کی تجویز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم کم نمائندگی والے علاقوں سے نومنتخب اراکین کی توسیع کو علاقائی نمائندگی کے اصول کے ساتھ مربوط دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یو ایف سی افریقی اور ایشائی ممالک کی نمائندگی کےحوالے سے مسائل پر بھی غور کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جغرافیائی بنیادوں پر یورپ کی نمائندگی پہلے ہی زیادہ ہے اور یورپ کے لئے مزید نشستوں کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا، اضافی اور انفرادی مستقل نشستوں کا تصور جامع علاقائی نمائندگی کو کمزور کرتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ملک صرف ایک بار منتخب ہوا اور وہی مستقل طور پر اس خطے کی مکمل نمائندگی کرے ، یہ اصول اس خطے کے دیگر رکن ممالک کے لیے کونسل کا رکن منتخب ہونے کے مواقع کو کم کر دے گا۔

ویٹو پاور بارے بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگر پانچ مستقل ممبران اپنی مراعات یافتہ پوزیشن سے دستبردار نہیں ہوتے ، تو جیسا کہ بہت سے ممالک نے مطالبہ کیا ہے، مزید ریاستوں تک ویٹو کا حق دینے سے عدم مساوات میں اضافہ ہو گا اور سلامتی کونسل کے فیصلہ سازی کے عمل میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی جو بالآخر امن اور سلامتی کے اہم مسائل کے حل میں نئی رکاوٹوں کی شکل میں سامنے آئیں گی۔

ویٹو کی طاقت کو متوازن کرنے کا سب سے مؤثر اور قابل عمل طریقہ سلامتی کونسل میں منتخب اراکین کی تعداد کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الحکومتی مذاکرات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کونسل کے ارکان کی تعداد میں مزید دس ارکان کی توسیع پر رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی موجود تھی اور یونائیٹڈ فار کن سنسس گروپ نے بھی اس سے اتفاق کیاہے۔کونسل کے کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ تجویز کردہ اقدامات میں رکن ممالک کو ذیلی اداروں کے ساتھ بات چیت کے مزید غیر رسمی مواقع فراہم کرنا، یا بند اجلاسوں اور غیر رسمی مشاورت میں زیر بحث معاملات پر غیر کونسل ممبران کے لیے زیادہ بار بار، بروقت اور معلوماتی بریفنگ کا انعقاد شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ متن پر مبنی مذاکرات تب ہی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے جب تمام گروپوں پر مشتمل نتائج کے پیرامیٹرز پر ایک وسیع تر معاہدہ ہو۔ اس کے لیے سلامتی کونسل کے کام کرنے کے طریقوں کے علاوہ سائز، علاقائی نمائندگی، زمرہ جات، اور ویٹو پر موجود وسیع اختلافات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔واضح رہے کہ فروری 2009 میں شروع ہونے والا سلامتی کونسل میں اصلاحات کا عمل اب تک تعطل کا شکار ہے۔ بین الحکومتی مذاکرات کا عمل پانچ کلسٹرز سے متعلق ہے جن میں رکنیت کے زمرے، ویٹو کا سوال، علاقائی نمائندگی،ت وسیع شدہ سلامتی کونسل کا سائز، اور کونسل کے کام کرنے کے طریقے اور جنرل اسمبلی کے ساتھ اس کے تعلقات شامل ہیں۔ اصلاحات کے عمل میں کونسل کو وسعت دینے پر ایک عمومی معاہدے کے باوجود، رکن ممالک کے درمیان اس کی تفصیلات پر شدید اختلافات پائےجاتےہیں۔

بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل گروپ آف فور کونسل کی مستقل رکنیت کا خواہاں ہے اور اس نے کونسل کے ارکان کی تعداد کو بڑھا کر25تک کرنے کے موقف میں کسی لچک نہیں دکھائی۔ ان کے مجوزہ نئے ارکان میں چھ مستقل اور چار غیر مستقل ارکان کا اضافہ شامل ہے۔ دوسری طرف، اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں اتحاد برائے اتفاق رائے (یو ایف سی ) سلامتی کون سل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے کی سختی سے مخالفت کررہا ہے۔

اس گروپ نے اراکین کی ایک نئی کیٹیگری تجویز کی ہے جو مستقل نہیں ہوں گے لیکن ان کی رکنیت کی مدت طویل ہو گی اور ان کو دوبارہ منتخب کیا جا سکے گا۔سلامتی کونسل اس وقت پانچ مستقل ارکان پر مشتمل ہے جن مین برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا ،مستقل ارکان ہیں جبکہ 10 غیر مستقل ارکان کا انتخاب دو سال کی مدت کے لئے کیا جاتا ہے ۔

مزید خبریں