اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے مالی سال 24۔2023 ء کے لئے نظام ادائیگی کا دوسرا سہ ماہی جائزہ جاری کردیا ہے،اس جائزے میں پاکستان کے ادائیگی کے ایکو سسٹم میں نمایاں پیشرفت اور ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منظر نامہ کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مالی سال 24۔2023ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران ادائیگیوں کے انفراسٹرکچر کے …
سٹیٹ بینک نے مالی سال 2024ء کے لئے نظام ِ ادائیگی کا دوسرا سہ ماہی جائزہ جاری کر دیا
اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):بینک دولت پاکستان نے مالی سال 24۔2023 ء کے لئے نظام ادائیگی کا دوسرا سہ ماہی جائزہ جاری کردیا ہے،اس جائزے میں پاکستان کے ادائیگی کے ایکو سسٹم میں نمایاں پیشرفت اور ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منظر نامہ کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔سٹیٹ بینک سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مالی سال 24۔2023ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران ادائیگیوں کے انفراسٹرکچر کے استعمال کنندگان کی بنیاد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانیوں نے ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز میں موبائل اور انٹرنیٹ بینکاری کے طریقے کو ترجیح دی ۔ موبائل اور انٹر نیٹ بینکاری کے استعمال کنندگان کی تعداد بڑھ کر 16 ملین اور 11 ملین تک پہنچ گئی جو ان میں بالترتیب 8 اور 5 فیصد کی سہ ماہی شرح نمو کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ سہ ماہی کے دوران الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز)کے رجسٹرڈ ای والٹس کی تعداد 15 فیصد اضافہ کےساتھ بڑھ کر 2.7 ملین تک پہنچ گئی جو گذشتہ چار سہ ماہیوں میں دگنے سے بھی زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں برانچ لیس بینکاری سروس پروائیڈرز کی جانب سے 67 ملین سے زائد ایم والٹس کو رجسٹرڈ کیا گیا۔ مالی سال 24ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور ای ایم آئیز کے ذریعے پراسس کئے گئے ریٹیل لین دین میں 15 فیصد کی سہ ماہی نمو ہوئی ، جو گذشتہ سہ ماہی کی 5 فیصد نمو کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
زیرِ جائزہ سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل لین دین کا حجم مجموعی ریٹیل لین دین کا 82 فیصد تھا جبکہ گذشتہ سہ ماہی کے دوران یہ 80 فیصد تھا۔ تاہم مالیت کے لحاظ سے اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) لین دین ، مجموعی ریٹیل لین دین کا 85 فیصد حصہ ہیں۔ اسی سہ ماہی کے دوران 90 فیصد سے زائد ریٹیل فنڈ ٹرانسفر اور 73 فیصد بلوں کی ادائیگی/موبائل ٹاپ اپ ڈیجیٹل چینلز کا استعمال کرتے ہوئے انجام دیے گئے۔ گذشتہ سہ ماہی میں یہ حصہ بالترتیب 88 فیصد اور 68 فیصد تھا۔راست (فوری ادائیگی کا نظام) اور پرزم (ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم) نے ملک بھر میں ڈیجیٹل مالی خدمات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان میں فوری ادائیگی کے حل راست نے مالی سال 24ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران اہم کردار ادا کیا ، اس کے ذریعے فنڈز کی منتقلی کی 107 ملین مفت ٹرانزیکشنز کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 2 ٹریلین روپے سے زائد تھی۔ اسی سہ ماہی میں آر ٹی جی ایس نے 1.5 ملین بڑی مالیت کی ادائیگیاں پراسس کیں جن کی مالیت 273 ٹریلین روپے تھی۔ آر ٹی جی ایس کی مالیتوں کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ فنڈز کی منتقلی کی سیٹلمنٹ 29 فیصد ، سرکاری تمسکات کے سیٹلمنٹ 70 فیصد اور کلیئرنگ ٹرانزیکشنز کے سیٹلمنٹ ایک فیصد تھے۔پاکستان کے ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے میں 33 بینکس، 11 مائیکرو فنانس بینکس (ایم ایف بیز)، 5 پیمنٹ سسٹم آپریٹرز / سروس پرووائیڈرز (پی ایس اوز / پی ایس پیز)، 5 الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز)، ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم PRISM، ’راست‘ فوری ادائیگی کا نظام اور مالی خدمات فراہم کرنے والی مختلف ٹیکنالوجیز (فن ٹیک ) شامل ہیں۔
مالی سال 2023-24ء کی دوسری سہ ماہی کے اختتام تک بینک اور مائیکروفنانس بینکس 18,178 برانچوں، 18,441 اے ٹی ایمز، 121,987 پی او ایس مشینوں کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کر رہے تھے جبکہ ای کامرس پیمنٹ گیٹ ویز 7,630 رجسٹرڈ ای مرچنٹس کو خدمات کی فراہم کر رہے تھے۔اس کے علاوہ 16 بینک اور ایم ایف بیز برانچ لیس بینکاری (بی بی) خدمات بھی فراہم کر رہے تھے ، جس سے بینکاری خدمات تک رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔









