اسلام آباد ۔ 09 مارچ (اے پی پی) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی پر قابو پاسکتے ہیں، سرحدی انتظام وانصرام دونوں ملکوں کے بہتر مفاد میں ہے، پاکستان قومی سلامتی کیلئے کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا، 13ویں اقتصادی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے دوران کشمیر کا معاملہ بھر پور انداز میں اٹھایا گیا، پاک افغان سرحد بند کرنے کا …
دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا کی ہفتہ وارپریس بریفنگ
اسلام آباد ۔ 09 مارچ (اے پی پی) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی پر قابو پاسکتے ہیں، سرحدی انتظام وانصرام دونوں ملکوں کے بہتر مفاد میں ہے، پاکستان قومی سلامتی کیلئے کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا، 13ویں اقتصادی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے دوران کشمیر کا معاملہ بھر پور انداز میں اٹھایا گیا، پاک افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ ملکی سلامتی کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ۔جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیابھر میں اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے تاہم پاکستان خطے میں طاقت کا توازن اور کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ترجمان نے کہاکہ بحر ہند میں بھارت کی ایٹمی سرگرمیاں خطے اور عالمی سطح پر باعث تشویش ہیں اور عالمی ادارہ نیو کیلئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دیتے وقت بھارت کی غیر معمولی ایٹمی اور دفاعی سرگرمیوں کو مد نظر رکھیں۔پاک افغان سرحد کی بندش کے حوالے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سرحد بند کرنے پر مجبور کیا گیا، لاہور،مہمند ایجنسی اور چارسدہ میں کئے گئے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری جماعت الحرار اور تحریک طالبان نے قبول کی تھی جس کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں قائم ہیں، پاکستان نے ملکی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان سرحد کو بند کیا کیونکہ ملکی سیکورٹی ہمارے لئے سب سے مقدم ہے۔ترجمان نے کہاکہ یہ معاملہ کئی بار افغان حکام کے ساتھ اٹھایا گیا لیکن ان گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔









