طارق فتح نامی شخص کے پاکستان کے حوالے سے دو جھوٹے دعوے مسترد،پاکستانی ہائی کمیشن اوٹاوہ

طارق فتح نامی شخص کے پاکستان کے حوالے سے دو جھوٹے دعوے مسترد،پاکستان ایک کثیر الثقافتی، ترقی پسند اور جمہوری ملک ہے جس میں کسی بھی قسم کی مذہبی انتہا پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں،کسی کو مذہب، نسل یا فرقہ کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی،بلوچشتان کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں، وہ پاکستان کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں،پاکستانی ہائی کمیشن اوٹاوہ اسلام آباد ۔ 13 …

طارق فتح نامی شخص کے پاکستان کے حوالے سے دو جھوٹے دعوے مسترد،پاکستان ایک کثیر الثقافتی، ترقی پسند اور جمہوری ملک ہے جس میں کسی بھی قسم کی مذہبی انتہا پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں،کسی کو مذہب، نسل یا فرقہ کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی،بلوچشتان کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں، وہ پاکستان کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں،پاکستانی ہائی کمیشن اوٹاوہ

اسلام آباد ۔ 13 مارچ (اے پی پی) کینیڈا اوٹاوا میں پاکستانی ہائی کمیشن نے پاکستان کے حوالے سے طارق فتح نامی شخص کی جانب سے اپنے دو کالموں میں اٹھائے گئے دو دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طارق فتح نے اپنے کالموں میں پاکستان کے حوالے سے دو گمراہ کن اور حقائق کے برعکس دعوے کیے ہیں۔طارق فتح کے کالم میں لکھا گیا ہے کہ تین دہائیاں قبل پاکستان کے چھوٹے بزنس مالکان مذہبی انتہا پسندی کے باعث باہر چلے گئے تھے جو حقائق کے قطعی برعکس ہے۔پاکستان ایک کثیر الثقافتی، ترقی پسند اور جمہوری ملک ہے جس میں کسی بھی قسم کی مذہبی انتہا پسندی کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ پاکستان میں تمام مسلمان، ہندو ، عیسائی اور سکھوں سمیت تمام لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور انہیں ہر طرح کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ کسی کو مذہب، نسل یا فرقہ کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی۔طارق فتح کی جانب سے دوسرا دعویٰ بھی سرا سر غلط اور غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کیا ہے۔پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا علاقہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کے عوام ملک کے دیگر حصوں کے عوام کی طرح اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔ پاکستان 14 اگست 1947ءکو برصغیر کی تقسیم کے بعد معرض وجود میں آیا اور اسی دن سے بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے جہاں کے عوام کی پاکستان سے محبت کے علاوہ کوئی دوسری خواہش نہیں وہ پاکستان کیلئے ہی جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ہم اس امر کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایشیائی اور افریقی ممالک سے بہت سارے لوگ سخت سزاﺅں کی بنیاد پر کینیڈا میں پناہ کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ یہ امر حیران کن ہے کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر دوسروں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نامعلوم وجوہات کی بناءپر طارق فتح مسلسل حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش اور ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ہم اس بات کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں کہ اس حوالے سے ریکارڈ کو درست کرنا ضروری ہے

Leave a Reply