فلسطین سمیت دنیا بھر میں جبری بےگھر افراد کی تعداد 2023میں نئی تاریخی سطح تک پہنچ گئی ،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔14جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فلسطین سمیت دنیا بھر میں جبری بےگھر افراد کی تعداد میں اضافہ 2023 کے دوران نئی تاریخی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این یچ سی آر کی 2024 کی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مجموعی طور پر مئی 2024 تک 12 کروڑ افراد دنیا بھر کے …

اقوام متحدہ۔14جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فلسطین سمیت دنیا بھر میں جبری بےگھر افراد کی تعداد میں اضافہ 2023 کے دوران نئی تاریخی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این یچ سی آر کی 2024 کی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مجموعی طور پر مئی 2024 تک 12 کروڑ افراد دنیا بھر کے ممالک میں جبری طور پر بےگھر ہوئے ، اس اضافے میں یہ رجحان مسلسل 12 ویں سال دیکھا گیا جو تنازعات اور دیرینہ بحرانوں کو حل کرنے میں ناکامی کی عکاسی کرتا ہے،

ان تمام بےگھر افراد کو جمع کیا جائے تو یہ تعداد دنیا کے 12ویں سب سے بڑے ملک جاپان کی آبادی جتنی ہے،ان اعداد و شمار میں ہوشربا اضافے کی اہم وجہ سوڈان میں تباہ کن تنازعہ ہے جہاں اپریل 2023 سے 71 لاکھ سے زیادہ نئے افراد بےگھر ہوئے جبکہ 19 لاکھ پہلے ہی پناہ کی تلاش میں بیرون ملک نقل مکانی کر گئے، 2023 کے آخر میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 8 لاکھ سوڈانی بےگھر ہوئے۔

جمہوریہ کانگو اور میانمار میں گزشتہ سال سے جاری لڑائی میں بھی لاکھوں افراد اندرون ملک بےگھر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ایک اور ذیلی ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے مطابق اندازہ ہے کہ گزشتہ سال کے آخر تک غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور جارحیت سے 17 لاکھ افراد ( غزہ کی آبادی کا 75 فیصد) بےگھر ہو ئے جن میں سے کئی فلسطینی پناہ گزین متعدد بار غزہ میں ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے۔ شام میں بھی ایک کروڑ 38 لاکھ جبری طور اندرونی اور بیرونی طور پر بےگھر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے ان گنت انسانی المیے پوشیدہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گراندی کا کہنا ہے کہ ان مصائب کے پیش نظر عالمی برادری کو جبری بے دخلی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر متحرک کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ یہی وقت ہے کہ متحارب فریق جنگ کے بنیادی قوانین اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی اکثریت اپنے پڑوسی ممالک میں مقیم ہے جن میں سے 75 فیصد پناہ گزین کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں مقیم ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بےگھر ہوئے اور 10 لاکھ پناہ گزین اپنے وطن واپس لوٹے، یہ اعداد و شمار طویل مدتی حل کی جانب کچھ پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پناہ گزینوں اور ان کی میزبانی کرنے والی کمیونٹیز کو یکجہتی اور مدد کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں موسمیاتی بحران پر نیا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ یہ بحران کس طرح تیزی سے اور غیر متناسب طور پر بےگھر ہونے والے لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔