فیصل آباد۔ 14 جون (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آبادنے کسانوں کے فارمز میں سویا بین کی نئی تیار کردہ اعلیٰ پیداواری اقسام کے 100 نمائشی فیلڈز قائم کردیئے ہیں اورآئندہ سال انہیں صوبائی و وفاقی حکومت کے تعاون سے1000 تک بڑھا دیا جائے گاجس سے ہر سال اربوں روپے کی سویا بین کی امپورٹ کو کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے زرعی مسائل کے …
جامعہ زرعیہ فیصل آباد ، کسانوں کے فارمز میں سویا بین کی نئی تیار کردہ اعلیٰ پیداواری اقسام کے 100 نمائشی فیلڈز قائم

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 14 جون (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آبادنے کسانوں کے فارمز میں سویا بین کی نئی تیار کردہ اعلیٰ پیداواری اقسام کے 100 نمائشی فیلڈز قائم کردیئے ہیں اورآئندہ سال انہیں صوبائی و وفاقی حکومت کے تعاون سے1000 تک بڑھا دیا جائے گاجس سے ہر سال اربوں روپے کی سویا بین کی امپورٹ کو کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے زرعی مسائل کے حل کیلئے بھی تمام ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
جامعہ زرعیہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے اے پی پی کوبتایا کہ ہمارے ترقی پسند کسان 60 سے 80 من فی ایکڑ گندم حاصل کر رہے ہیں جبکہ اوسط پیداوار30 من ہے جویہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکنالوجی تو دستیاب ہے تاہم آگہی کی کمی اور مالی مشکلات کی وجہ سے کسان جدید زرعی رجحانات کو اپنانے سے گریزاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1960کے سبز انقلاب میں گندم کے نئے بیج میکسی پیک کو متعارف کرایا گیا تھا جس سے پیداوار کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں میکنائزیشن، جی ایم فصلوں، جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور بہتر تجارت اور زیادہ پیداواریت کے حامل بیج کو اپنانے کی ضرورت ہے۔








