اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 7 ارب ڈالرمالیت کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے ضمن میں سٹاف سطح کامعاہدہ کرلیاہے، پروگرام کے تحت 37 ماہ کی مدت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کومجموعی طورپر7 ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی جائیگی، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری کے بعد پروگرام پرباضابطہ عمل درآمد شروع ہوگا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی …
پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 7 ارب ڈالرمالیت کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے ضمن میں سٹاف سطح کامعاہدہ کرلیا، 37 ماہ کی مدت میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کومجموعی طورپر7 ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی جائیگی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):پاکستان اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 7 ارب ڈالرمالیت کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے ضمن میں سٹاف سطح کامعاہدہ کرلیاہے، پروگرام کے تحت 37 ماہ کی مدت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کومجموعی طورپر7 ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی جائیگی، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری کے بعد پروگرام پرباضابطہ عمل درآمد شروع ہوگا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اس حوالہ سے ہفتہ کوجاری اعلامیہ کے مطابق حکومت پاکستان کی درخواست پر آئی ایم ایف کے پاکستان میں مشن چیف ناتھن پورٹر کی قیادت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم نے 13 مئی سے لیکر23 مئی تک کی مدت میں اسلام آباد کے دورے کے دوران اور اس کے بعد بھی بات چیت کا عمل جاری رکھا۔
اعلامیہ میں بتایاگیاہے کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے توثیق کردہ جامع پروگرام پر سٹاف سطح کا معاہدہ کرلیاہے جس کے تحت 37ماہ کی مدت میں پاکستان کو 5320 ایس ڈی آر (7 ارب ڈالر) کے مساوی فنڈز فراہم کئے جائیں گے ، معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری اور پاکستان کے ترقیاتی اور دو طرفہ شراکت داروں کی جانب سے ضروری مالیاتی یقین دہانیوں کی بروقت تصدیق سے مشروط ہے۔
اعلامیہ کے مطابق پروگرام کا مقصد عوامی مالیات کو مضبوط بنانے، افراط زر کو کم کرنے، بیرونی بفرز کی تعمیر نو اور معاشی بگاڑ کو دور کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھا کر گزشتہ سال سخت محنت سے حاصل کردہ معاشی استحکام کو پائیداربنانا ہے تاکہ نجی شعبے کی قیادت میں نمو کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ آئی ایم ایف کے اعلامیہ کے مطابق پائیدار عوامی مالیات، ٹیکس کی بنیاد میں وسعت اور استثنیٰ کو ختم کرنے کے لیے اصلاحات پر مبنی اقدامات کاسلسلہ جاری رہے گا، ترقی اور سماجی اخراجات کے لیے وسائل میں اضافہ کیا جائیگا ، پاکستان کے حکام مالی سال 2025 میں مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کوڈھائی فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں،آئی ایم ایف کے پروگرام کے مجموعی عرصہ میں پاکستان جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی بنیادمیں 3 فیصداضافہ کریں گے۔
پروگرام سے پاکستان مییں محصولات کی شرح میں اضافہ ہوگا اورٹیکس کے نظام مین شفافیت آئیگی ، پروگرام کے تحت زراعت کے شعبوں سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی کو ٹیکس کے نظام میں مناسب طریقے سے لایاجائیگا۔معاشرے کے معاشی طورپر کمزورطبقات کیلئے پاکستان کی حکومت نے جاری مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سماجی تحفظ کے پروگرام، تعلیم اور صحت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیاہے۔اعلامیہ میں بتایاگیاہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اخراجات کی سرگرمیوں کو متوازن کرنے پر اتفاق کیا ہے، صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت، سماجی تحفظ کے لیے زیادہ خرچ کرنے کریں گی ، صوبے بشمول سروسز پر سیلز ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس کے ذریعہ ٹیکس جمع کرنے کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔
تمام صوبے وفاقی ذاتی اور کارپوریٹ انکم ٹیکس رجیم کے ساتھ قانون سازی کے ذریعے اپنے زرعی انکم ٹیکس کے نظام کو مکمل طور پر ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کا ایک ہدف مہنگائی کو کم کرنا، فنانسنگ تک رسائی میں اضافہ ،مضبوط بیرونی بفرز کی تعمیر ، پائیدارنمو اور لچک میں اضافہ کرنا ہے۔
پروگرام کے تحت توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کاعمل جاری رہے گا، پیداواری لاگت میں اضافہ کو روکا جائیگا، پاکستان کے حکام ہدف پرمبنی زرتلافیوں کے حوالہ سے بھی پرعزم ہیں، معاشی طورپر کمزور گھرانوں کو بی آئی ایس پی کے ذریعہ براہ راست اور ٹارگٹڈ سپورٹ کے ساتھ کراس سبسڈی فراہم کی جارہی ہے ۔پروگرام کے تحت پاکستان میں کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جائیگا ، کاروباری مسابقت کیلئے اقدامات جاری رہیں گے ، سرکاری ملکیتی اداروں کی کارگردگی اورگورننس میں بہتری کیلئے نجکاری سمیت دیگر اقدامات کاسلسلہ جاری رہے گا۔








