غیرملکی ترسیلات زر جون میں 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ،سعودی سینٹرل بینک

ریاض۔11اگست (اے پی پی):سعودی سینٹرل بینک (ساما) نے کہا ہے کہ جون میں سعودی عرب سے غیرملکی ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ عرب نیوز نے ساما کے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا سعودی شہریوں کی جانب سے بیرون مملک بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں سالانہ ایک فیصد کی کمی ہوئی ہے جو مجموعی طور پر5.21 ارب سعودی ریال ہے۔سعودی عرب میں اوسط ایگزیکٹو تنخوا ایک …

ریاض۔11اگست (اے پی پی):سعودی سینٹرل بینک (ساما) نے کہا ہے کہ جون میں سعودی عرب سے غیرملکی ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ عرب نیوز نے ساما کے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا سعودی شہریوں کی جانب سے بیرون مملک بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں سالانہ ایک فیصد کی کمی ہوئی ہے جو مجموعی طور پر5.21 ارب سعودی ریال ہے۔سعودی عرب میں اوسط ایگزیکٹو تنخوا ایک لاکھ سالانہ سے تجاوز کر گئی ہے جو نہ صرف مشرق وسطی میں سب سے زیاد ہے بلکہ عالمی معیار بھی طےکرتی ہے۔

بنگلہ دیش سعودی عرب سے زر ترسیلات سے فائدہ اٹھانے والا ایک اہم ملک رہا ہے۔ بنگلہ دیشی تارکین وطن کی طرف سے مالی مدد ان کے آبائی ملک میں معیار زندگی کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام میں معاون ہے۔سعودی عرب اور امارات عالمی ترسیلات زر کے منظرنامے میں بنیادی پلیئر ہیں۔ 2022 میں دونوں ملکوں سے مشترکہ ترسیلات زر کا اخراج تقریبا 79 ارب ڈالر تھا۔صرف سعودی عرب نے 39.3 ارب ڈالر کا حصہ لیا جس سے ترسیلات زر وصول کرنے والے ملکوں کی معیشیتوں پر اس کے نمایاں اثرات اجاگر ہوئے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب طویل عرصے سے منافع بخش روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے غیر ملکیوں کےلیے ایک ترجیحی ملک رہا ہے۔ اپنی مضبوط اقتصای ترقی اور اعلی تنخواہ کے ساتھ مملکت دنیا بھر کے پروفیشنلز کےلیے ایک پر کشش منزل ہے۔