افغانستان میں طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے انسانی حقوق رچرڈ برینٹ کے داخلے پر پابندی عائد کردی

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):افغانستان میں طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے انسانی حقوق کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق طالبان انتظامیہ نے مقامی ٹیلی ویژن طلوع کو اقوام متحدہ کے نمائندے رچرڈ برینٹ کے افغانستان میں داخلے پر پابندی کی تصدیق کی اور انسانی حقوق کے نگران ادارے پر پروپیگنڈا پھیلانےکا الزام عائد کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل …

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):افغانستان میں طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے انسانی حقوق کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق طالبان انتظامیہ نے مقامی ٹیلی ویژن طلوع کو اقوام متحدہ کے نمائندے رچرڈ برینٹ کے افغانستان میں داخلے پر پابندی کی تصدیق کی اور انسانی حقوق کے نگران ادارے پر پروپیگنڈا پھیلانےکا الزام عائد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لیے رچرڈ بینیٹ کو 2022 میں نمائندہ خصوصی مقرر کیا تھا۔اس سے قبل رچرڈ بینیٹ نے کہا تھا کہ طالبان حکومت کا خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ برتاؤ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتا ہے۔افغان دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے رائٹرز کو بتایا کہ رچرڈ بینیٹ کو افغانستان کا ویزا نہیں مل سکا۔ترجمان نے مزید کہا کہ رچرڈ برینٹ سے متعدد بار درخواست کرنے کے بعد کہ وہ کام کے دوران پیشہ وارانہ مہارت پر عمل کریں، یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کی رپورٹنگ تعصب اور ایسے واقعات پر مبنی ہےجو افغانستان اور افغان عوام کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کہہ چکے ہیں کہ طالبان اسلامی قوانین اور مقامی رسم و رواج کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رچرڈ بینیٹ کے افغانستان سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ انہیں افغانستان میں پروپیگنڈا پھیلانے کا کام سونپا گیا ہے۔ وہ معمولی مسائل کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور بڑھاوا دیتے تھے۔