کینولاپنجاب سرسوں کو 20ستمبرتا 31 اکتوبر تک کاشت کیا جاسکتا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت

فیصل آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی):محکمہ زراعت توسیع کے ڈپٹی ڈائریکٹرخالد اقبال نےبتایا کہ کینولا اقسام میں پنجاب سرسوں منظور شدہ قسم ہے جسے پنجاب میں 20ستمبر تا31 اکتوبر تک کاشت کیا جا سکتا ہے جبکہ زائد خریف کی فصلوں میں توریا اے کو 15ستمبر تک کاشت کرنا مفیدہے۔انہوں نے کہا کہ توریا اے، اوریا انمول زائد خریف کی فصلیں ہیں جبکہ پیلا رایا، سرسوں، ڈی جی ایل، …

فیصل آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی):محکمہ زراعت توسیع کے ڈپٹی ڈائریکٹرخالد اقبال نےبتایا کہ کینولا اقسام میں پنجاب سرسوں منظور شدہ قسم ہے جسے پنجاب میں 20ستمبر تا31 اکتوبر تک کاشت کیا جا سکتا ہے جبکہ زائد خریف کی فصلوں میں توریا اے کو 15ستمبر تک کاشت کرنا مفیدہے۔انہوں نے کہا کہ توریا اے، اوریا انمول زائد خریف کی فصلیں ہیں جبکہ پیلا رایا، سرسوں، ڈی جی ایل، چکوال رایا، خان پور رایا موسم ربیع کی فصلیں ہیں،تیل دار اجناس کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کےلئے انہیں بر وقت کاشت کرنا اور صحت مند و صاف بیج کا استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے ملک میں خوردنی تیل کی پیداوار بڑھانے اور اس کی برآمد کی شرح میں اضافہ سمیت زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ حاصل کرنے کیلئے تیل دار اجناس کی کاشت کی ہدایت کی اور کہا کہ کاشتکار تیل دار اجناس کی منظور شدہ اقسام کاشت کر کے بھاری مالی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے پالک کے کاشتکاروں کوبھی بہتر پیداوار کےلئے بروقت آبپاشی کی ہدایت کی اور کہا کہ کاشتکار آبپاشی میں کسی غفلت کامظاہرہ نہ کریں تاکہ انہیں پیداواری نقصان کاسامنا نہ کرناپڑے۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکار پٹڑیوں پر کاشت کی ہوئی فصل کےلئے پانی کا وقفہ 6سے8دن اور ڈرل کے ذریعے کاشت کی ہوئی فصل کا وقفہ 10 سے 12 دن رکھیں نیز جب پودے 3،3پتے نکال لیں تو اس کے گچھے اکھاڑ دیں کیونکہ ایک جگہ زیادہ تعداد میں اگے ہوئے پودوں کی بڑھوتری متاثر اور پیداوار کم ہونے کاخدشہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکاروں کو پودوں کی چھدرائی میں بھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دیر سے اکھاڑے جانے پر بچ جانے والے پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔

 

مزید خبریں