بینکاری شعبے کی بیلنس شیٹ میں 2024 کی پہلی ششماہی میں 11.5 فیصد کی توسیع ہوئی، سٹیٹ بینک

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):بینکاری شعبے کی بیلنس شیٹ میں 2024 کی پہلی ششماہی میں 11.5 فیصد کی وسعت ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات سٹیٹ بینک کی جانب سے 2024 کے لیے بینکاری شعبے کی کارکردگی کی ششماہی جائزہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق جائزہ میں جنوری تا جون 2024 کی مدت کے لیے ملک کے بینکاری شعبے کی کارکردگی اور مضبوطی کا جائزہ لیا …

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):بینکاری شعبے کی بیلنس شیٹ میں 2024 کی پہلی ششماہی میں 11.5 فیصد کی وسعت ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات سٹیٹ بینک کی جانب سے 2024 کے لیے بینکاری شعبے کی کارکردگی کی ششماہی جائزہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق جائزہ میں جنوری تا جون 2024 کی مدت کے لیے ملک کے بینکاری شعبے کی کارکردگی اور مضبوطی کا جائزہ لیا گیا،جائزے میں مالی منڈیوں کی کارکردگی، نظامیاتی خطرے کے سروے کے نتائج، مالی استحکام سے متعلق ممکنہ خدشات پر ماہرین کی آراء شامل ہیں۔ 2024 کی پہلی ششماہی میں بینکاری شعبے کی بیلنس شیٹ میں 11.5 فیصد توسیع ہوئی، حکومت کی جانب سے بینکوں سے قرضوں کی طلب کی سطح بلند رہی، جبکہ نجی شعبے سے قرضوں کی خالص واپسی کا رجحان رہا۔ پہلی ششماہی کے دوران بینکوں کے ڈیپازٹس میں 11.7 فیصد اضافہ ہوا جس میں سیونگز اور کرنٹ ڈیپازٹس کا حصہ زیادہ رہا۔

بینکاری شعبے کے اثاثہ جاتی معیار کا خاکہ اطمینان بخش رہا، خام غیر فعال قرضوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، قرضوں پر منافع اور خالص سودی مارجن سکڑنے کی وجہ سے بینکوں کی آمدنی سست رفتار رہی، فیس کی آمدنی اور حکومتی سکیورٹیز پر تجارتی فوائد جیسی غیر سودی آمدنی سے بینکوں کے منافع کو تقویت ملی۔ جائزہ کے مطابق بینکاری شعبے کی ادائیگی قرض کی صلاحیت مضبوط رہی، شرح کفایت سرمایہ بہتری کے ساتھ 20.0 فیصد ہو گئی ۔

معاشی حالات میں بتدریج بہتری کے سبب 2024 کی پہلی ششماہی کے د وران ملکی مالی منڈیوں پر دبائو کم رہا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق ایس آر ایس سروے میں شامل ماہرین نے مالی نظام کے استحکام اور ضابطہ کاروں کی نگرانی کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ، ماہرین نے جن تین سرفہرست خدشات کی نشاندہی کی ان میں توانائی بحران، اجناس کی قیمتوں میں تغیر پذیری اور شرح مبادلہ سرفہرست ہیں ۔

مزید خبریں